بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔
اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔ اسی بنیاد پر، بہت سی آزاد بین الاقوامی شخصیات نے اُن کی شہادت کے موقع پر ویڈیو بیانات جاری کئے جن میں سے ایک سنگاپور کے رہائشی وکیل اور "عوامی آواز" پارٹی کے رہنما بیرسٹر لم ٹین (Lim Tean) ہیں جن کا بیان کچھ یوں ہے:

دوسری قسط:
جو معاہدہ 17 جون 2026ع کو ایران اور امریکہ کے درمیان طے پایا، اسے اسی طرح سمجھنا چاہئے جیسا کہ وہ حقیقت میں تھا؛ نہ کہ کوئی سفارتی مصالحت یا دو طرفہ مفاہمت کے طور پر؛ بلکہ اسے واشنگٹن کے لئے ایک واضح تزویراتی شکست کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ امریکہ اس تصور کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہؤا کہ اس کی دہائیوں کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے؛ اور مذاکرات سے اس حال میں نکلا کہ وہ بالواسطہ مگر ناقابلِ انکار طور پر اس یقین تک پہنچ چکا تھا کہ وہ شکست کھا چکا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت اسی قوم سے مذاکرات پر مجبور ہو گئی جس کو وہ 47 سالہ عرصے سے الگ تھلگ کرنے، پابندیوں سے دوچار کرنے اور تباہ کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ یہ سمجھوتہ نہیں، بلکہ شکست تسلیم کرنے کا اعلان ہے جس کو سفارتی زبان و بیان سے آراستہ کیا گیا ہے۔ یہ نتیجہ ایک غیر معمولی 'تزویراتی صبر' کا ثمرہ تھا؛ وہ وصف جس کا، آیت اللہ خامنہ ای، اپنی نسل کے کسی بھی دوسرے رہبر سے زیادہ، مظہر تھے۔ امریکی حکومتیں آتی اور جاتی رہیں، مگر ایران نے اپنا سفر جاری اور مشن برقرار رکھا؛ اپنے اتحادوں کو گہرا کر دیا؛ اپنی تسدید (Deterrence) کو وسعت دی؛ اور اسی پروگرام کو آگے بڑھاتے رہے جس سے واشنگٹن سب سے زیادہ ڈرتا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی شہادت کے ذریعے ایران کو [امریکہ کے بجائے] ایسا ملک بنا دیا جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ وہ بقید حیات نہ رہے کہ اپنی بوئی ہوئی فصل کا پھل دیکھ سکیں۔ لیکن یہ پھل حقیقی اور ناقابلِ واپسی ہے۔ آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ دنیا بھر کے ممالک کے موقف میں ایک بنیادی باز ترتیب [Re-arrangement] ہے؛ جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کی پوری شناخت امریکہ کی دائمی برتری کے مفروضے پر استوار کی تھی۔ ایران نہ صرف ایک [بحران کے بعد] بچ نکلی ہوئی طاقت کے طور پر، بلکہ ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھرا ہے [جو دنیا کے لئے ناگزیر اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور] جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ کوئی بھی علاقائی معاہدہ، توانائی کی سلامتی کا کوئی بھی فریم ورک اور مشرق وسطیٰ کے بڑے سوالات کا کوئی بھی حل اب ایران کی شرکت اور رضامندی کے بغیر تشکیل نہیں پا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ