19 ستمبر 2026 - 15:09
ایران امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے نکال باہر کر سکتا ہے، ڈیلی ٹیلی گراف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے فرانسیسی وزیر خارجہ سے مخاطب ہوکر کہا: مگر مچھ کے آنسو بہانا کافی ہے، جناب بارو! جس وقت امریکہ نے ہمارے اسکولوں کے بچوں کا قتل عام کیا، آپ کی خاموشی نے سب کچھ بتا دیا!

ایک انگریزی اخبار نے ایران کے حملوں کے نتیجے میں خطے میں امریکی اڈوں کو کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگ نے واشنگٹن کی کئی دہائیوں پر مشتمل مغربی ایشیا کی حکمت عملی کو متنازعہ بنا دیا ہے اور عرب ممالک کو اپنی سلامتی کے لئے امریکہ پر انحصار کی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || برطانوی اخبار 'ڈیلی ٹیلی گراف' نے ایک تجزیئے میں خطے میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ اڈے جو واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں فوجی برتری اور ڈیٹرنس اپنے حق میں برقرار رکھنے کے لئے بنائے تھے، اب زدپذیر اہداف بن چکے ہیں؛ ایسی صورتحال جس نے خطے کے عرب ممالک کو اپنی سلامتی کے لئے امریکہ پر انحصار کی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

تجزیئے کا خلاصہ

ڈیلی ٹیلی گراف نے ایران کے حملوں کے بعد خطے میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:

اس جنگ نے واشنگٹن کی کئی دہائیوں پر مشتمل مغربی ایشیا کی حکمت عملی کو متنازعہ بنا دیا  اور عرب ممالک اپنی سلامتی کے لئے امریکہ پر انحصار کی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جو اڈے واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی برتری اور تسدید برقرار رکھنے کے لئے بنائے تھے، اب زدپذیر مقامات بن چکے ہیں۔

امریکی عہدیدار جنگ کے منصوبے کے مطابق چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم میدان کی صورتحال مختلف ہے۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق خطے کے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں کی سینکڑوں عمارتیں اور ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔

سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کے شاہزادہ سلطان ایئر بیس اور بحرین میں پانچویں امریکی بیڑے کے مرکز کو پہنچنے والے نقصانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔

سنہ 1991 میں عراق کے خلاف امریکی جنگ ـ جو "خلیج فارس کی جنگ" کہلائی ـ کے بعد امریکہ نے خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک میں وسیع فوجی موجودگی قائم کی تھی۔ قطر، بحرین اور امارات نے بھی امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے کر کے اس موجودگی کو اپنی سلامتی کے نظام کا حصہ بنایا تھا۔ تاہم ایران کے ساتھ جنگ نے یہ فارمولا بدل دیا۔

جو اڈے عام حالات میں امریکی طاقت اور تسدید (ڈیٹرنس) کی علامت تھے، جنگ کے وقت وہ مستقل اہداف بن گئے جنہیں ایران اپنی میزائل طاقت سے نشانہ بنا چکا ہے اور بنا سکتا ہے۔

ایران کے حملوں نے ان اڈوں کو نہ صرف براہ راست نقصان پہنچایا بلکہ واشنگٹن کو فضائی دفاعی نظاموں اور انٹرسپیٹر میزائلوں کے وسیع استعمال پر مجبور کر دیا، جن کی خالی جگہ پر کرنا وقت طلب اور مہنگا ہے۔ اردن میں امریکی اڈے بھی ایران کے حملوں سے محفوظ نہ رہے۔

اس صورتحال نے خلیج فارس کے عرب ممالک کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا سلامتی کے لئے کسی بیرونی طاقت پر انحصار اب بھی پہلے جیسا کردار ادا کر سکتا ہے؟

ریاض، ابوظہبی اور دوحہ کے رہنماؤں کو خطے کے سلامتی کے انتظامات کے مستقبل کے بارے میں سوچنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر جب جنگ نے ان پر عیاں کیا کہ امریکی افواج کی وسیع پیمانے پر موجودگی خود ان ممالک کو حملوں کی زد میں لا سکتی ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ مہینے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ منعقد کر کے اپنے سلامتی کے آپشنز متنوع بنانے کے لئے اپنا ارادہ آشکار کر دیا ہے۔

پینٹاگون خود بھی خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے بارے میں سنگین سوالات کا سامنا کر رہا ہے؛ اور واشنگٹن بھی خطے میں اپنی افواج کی تعیناتی کے طریقے میں تبدیلی پر غور کر رہا ہے اور جنگ سے پہلے کی سطح پر افواج اور فوجی ڈھانچوں کی واپسی کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہا ہے۔ [امریکی عہدیداروں کے بیانات کے مطابق، خطے میں کئی امریکی اڈے بند ہوجائیں گے، اور باقی اڈوں کے مستقبل کے بارے میں سخت فیصلے کرنا پڑیں گے]۔

موجودہ پیش رفت کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ خلیج فارس میں امریکی حکمت عملی کئی دہائیوں سے 'براہ راست فوجی موجودگی' پر استوار رہی ہے۔

خلیج فارس جنگ کے بعد سے واشنگٹن نے فوجی اڈوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور لاجسٹک مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم ایران کے ساتھ جنگ نے واضح کیا کہ یہی وسیع نیٹ ورک جنگ کے وقت ایک اسٹراٹیجک کمزوری بن سکتا ہے۔

قطر، بحرین، سعودی عرب، کویت، عراق، اردن اور دیگر مقامات پر امریکی تنصیبات جتنی زیادہ ہوں گی، ـ میزائل حملوں سے بچانے کے لئے ـ اہداف کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

یوں، واشنگٹن ایک تزویراتی تضاد کا سامنا کر رہا ہے: وسیع فوجی موجودگی، جو بظاہر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی بڑھانے کے لیے بنائی گئی تھی، جنگ کے وقت یہی موجودگی امریکہ کی لاگت اور کمزوری کو بڑھا سکتی ہے۔

یہ معاملہ خلیج فارس میں امریکی سلامتی کے نظریئے کے مستقبل کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ نے، یہ سوال واشنگٹن کے سامنے، رکھا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وسیع فوجی موجودگی کا پرانا نمونہ جاری رکھنا کیا اب بھی فائدہ مند، یا حتی ممکن، ہے یا نہیں بلکہ امریکہ کو خطے میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: شیدا فرہادیان پور

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha