بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار، عبدالباری عطوان نے کہا:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقتا مسخرہ بن چکا ہے، یہ شخص حیرت اور گھبراہٹ سے دوچار اور خبط میں مبتلا ہو چکا ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کے دن گنے چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کو بہت سخت حملوں کی دھمکی دی ہے اور اگر ایران ان حملوں کا جواب دے تو ایران کے نام سے کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی! لیکن اچانک، صرف ایک روز بعد، مرکزی کمانڈ [سینٹکام] نے اعلان کیا کہ حملہ روک لیا گیا ہے۔ کیونکہ ایران نے جوابی کاروائی کرکے خطے میں پانچ امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا؛ اردن، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر میں۔ یہ ایران کا جواب تھا؛ لیکن تہران بدستور قائم و دائم ہے، ایرانی فوج بدستور فعال اور سرگرم ہے، اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی بدستور حاضر و موجود ہے۔
امریکی جرنیلوں نے ٹرمپ کو روک لیا اور اس سے کہا: "تم ہمیں کہاں لے کر جا رہے ہو؟ اس ملک کو کہاں لے جا رہے ہو؟
اور پھر وہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول بھی حاصل نہ کرپائے۔
ٹرمپ پر ایک مہلک ضرب شنگھائی کانفرس سے لگ گئی۔ اس اجلاس میں حاضر چار اصلی ممالک نے ایک بیان جاری کیا اور اس میں ایران پر امریکی جارحیت کی مذمت کی اور زور دے کر کہا کہ "وہ ایران کے خلاف نافذ کردہ امریکی پابندیوں کے خلاف ہیں۔" یعنی ایران کی ناکہ بندی کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ گروپ 20 (G-20) کے وزرائے خارجہ نے بھی ایسا ہی موقف اختیار کیا اور ایران کی مذمت کرنے سے گریز کیا؛ وہ بھی مکمل طور پر۔
انہوں نے کہا: ایران کو حق حاصل ہے کہ پرامن شعبوں میں جوہری توانائی رکھ لے۔ ٹرمپ نے چین سے امید باندھ لی تھی، روس سے امید باندھ لی تھی۔ اس نے دوسرے ممالک سے بھی امید باندھی تھی کہ وہ اس ناکہ بندی کی حمایت کریں گے، کیونکہ چین کی حمایت کے بغیر، یہ ناکہ بندی کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
چنانچہ یہ ناکہ بندی عملی طور پر سپرد خاک ہو گئی۔ اور یہ ان اسباب میں سے ایک ہے جس نے امریکی حکومت کو پسپائی پر مجبور کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ