بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے، طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ کے موقع پر، اس کاروائی کے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا: حماس کے جنگجوؤں نے یہ کارروائی غاصب صہیونی ریاست کے عقوبت خانوں میں قید اپنے اسیروں کی رہائی کے لیے ترتیب دی تھی۔ اب جو پیغام سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے کہ اس نے حماس کے پیشگی انتباہ کے باوجود، اس واقعے کے سلسلے میں غفلت کیوں برتی ہے۔
جنرل رضائی نے کہا: حماس نے نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت کو پیغامات دیئے تھے اور خـردار کیا تھا کہ ہمارے اسیروں کو رہا کرو، ورنہ ہم تمہارے خلاف کارروائی کریں گے'۔ بالآخر یہ کارروائی ہزاروں مظلوم فلسطینی اسیروں کی رہائی کے لئے کی گئی۔
اسرائیلی رجیم نے تشدد، طفل کُشی، نسل پرستی اور نسل کُشی کی انتہا کر دی
جنرل رضائی نے کہا: اسرائیلی رجیم نے نے تشدد، طفل کُشی، نسل پرستی اور نسل کُشی کی انتہا کر دی۔
انھوں نے کہا: غزہ کا واقعہ، اور فلسطین میں نہتے عوام کا قتل عام، ایسا واقعہ ہے کہ یہ دنیا کے یہودیوں کے لئے بھی ناقابل دفاع ہے وہ بھی مزید اس حوالے سے اسرائیلی رجیم کی جانبداری نہیں کر سکتے، اور شاید آج نیتن یاہو کے اقدامات نے دنیا کے یہودیوں کو عزت و آبرو کے سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ [وہ کسی ملک میں بھی یہودی کے طور پر اپنا تعارف نہیں کرا سکتے!]
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے مزید کہا: اسرائیلی رجیم کے یہ اقدامات اتنے غیر انسانی تھے کہ خود دنیا کے یہودیوں کے ہاں بھی ناقابل دفاع ہیں۔ اسرائیلی رجیم کےاس انتہائی پرتشدد اور غیر انسانی چہرے نے ـ جو اس سے پہلے، گذشتہ 70 سالوں کے دوران میں جزوی طور پر دکھایا جاتا رہا تھا، ـ اس بار اسرائیلی جرائم کا بہت بڑا حجم دنیا والوں کے سامنے پیش کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ