29 اگست 2026 - 15:52
ٹرمپ کی جنگ جوئی؛ امریکی بالادستی کا 'بلیک ہول' - 2

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ، 15 ماہ بعد از آن کہ ڈونلڈ ٹرمپ، صدرِ امریکہ، نے اسے "ایک مختصر سفر" (یا ایک مختصر مہم) قرار دیا تھا، اب ایک جان لیوا دلدل بن چکی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی وزیرِ اعظم، نیتن یاہو نے بعد میں منکشف ہونے والی معلومات کے مطابق، ٹرمپ کو وعدہ دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 5 دنوں میں ایران میں حکمران نظآم کو تباہ کر دے گا! چنانچہ دنیا اب پہلے سے زیادہ سمجھ گئی ہے کہ امریکہ اب دنیا میں کوئی بھی ملک سپر پاور نہیں رہا۔ امریکی بالادستی کو آج عسکری، ثقافتی، معاشی اور دیگر شعبوں میں چیلنجوں کا سامنا ہے۔

دوسری اور آخری قسط:

ایران کو پسپائی پر مجبور کرنے میں امریکہ کی ناکامی

امریکہ نے نے یہ مضحکہ خیز اندازہ لگایا تھا کہ "ایران کمزور ہے" اور "کمزور ایران بالآخر امریکی طاقت کے آگے جھک جائے گا"؛ ایسی غلطی کہ جس نے نہ صرف وائٹ ہاؤس کو مخمصے میں ڈال دیا بلکہ دنیا کو بھی معاشی بحران میں دھکیل دیا۔

ایران نے "علاقائی جنگ" کی حکمتِ عملی اختیار کر کے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنایا اور امریکی فوجی اڈوں اور امریکہ سے منسلک کچھ بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ وہ ایرانی قوم پر کسی بھی جارحیت کی لاگت بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکہ کی عسکری فرسودگی

ایران کے خلاف امریکی جنگ، ـ جو واشنگٹن کے اندازوں سے کہیں زیادہ طویل ہو گئی ہے، ـ نے پینٹاگون کی جنگی مشین کی کمزوری کو ماضی سے کہیں زيادہ بے‌ نقاب کر دیا۔ یہ کمزوری مختلف جہتوں میں عیاں ہو گئی ہے، جن میں درجنوں امریکی جرنیلوں کی برطرفی شامل بھی ہے [جو بجائے خود جنگ میں شکست کا ایک اعتراف ہے]۔ اس معاملے نے پینٹاگون کے سینئر عہدیداروں کو شدید باہمی اختلافات سے دوچار کر دیا ہے۔

اسٹراٹیجک گولہ بارود کے ذخائر، ـ جیسے پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے دفاعی میزائلوں ـ میں کمی کا تنازع بھی اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ امریکی فوج کی میدانی طاقت وہ نہیں ہے جو ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھائی جاتی ہے۔

امریکہ کے بعد کی عالمی ترتیب (Post American World Order) عنقریب

علاقائی اتحاد بنانے کی طرف مغربی ایشیا کے ممالک کے خفیہ اور اعلانیہ رجحانات، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کی مزاحمت و مقاومت نے امریکی حفاظتی چھتری کی شکست ناپذیری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا سہ رکنی اتحاد، 'ما بعد امریکہ نئی سلامتی ترتیب' کا آغاز ہے۔

یہ اتحاد اس بات کا اظہار ہے کہ سعودی عرب نے عملی طور پر ابراہیم معاہدے کو نظرانداز کر دیا ہے، جس کا رجحان اب صہیونی ریاست کے ساتھ کم دوستانہ ہو گا۔ اس کا عکس مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ، افریقہ اور حتیٰ کہ یورپ میں وائٹ ہاؤس پر عدم اعتماد کی شکل میں، امریکہ کے دیگر اتحادیوں کے طرزِ عمل میں بھی دکھائی دے گا۔

اسلامی جمہوریہ ایران، جس نے امریکہ کے ساتھ غیرمتوازن جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم اور صلاحیت کو ثابت کرکے دکھایا ہے، استحکام کے میدان میں بھی اپنا امتحان کامیابی سے پاس کر چکا ہے۔

ایرانی اس بنیادی اصول کو ثابت کر رہے ہیں کہ حقیقی طاقت دھمکی میں نہیں، استحکام اور قوت برداشت میں ہے۔ اس صورتحال کا تسلسل امریکہ کو ایسے روزنِ سیاہ (Black Hole) میں دھکیل رہا ہے جو جلدی یا بدیر، لبرل ڈیموکریسی کو نگل لے گا؛ وہ لبرل ڈیموکریسی جو دنیا بھر میں عالمی استبدادی نظام کی بالادستی کے اسباب فراہم کرتی رہی ہے، بِإِذنِ الله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی، نائب سربراہ برائے سیاسی امور، آئی آر آئی بی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha