29 اگست 2026 - 18:10
نینسی پیلوسی: ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ چھ ماہ بعد بھی ایک اسٹریٹجک ہدف حاصل نہ کر سکا

امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے ٹرمپ حکومت کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھ ماہ کی جنگ اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ ایک بھی اسٹریٹجک ہدف حاصل نہیں کر سکا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ حکومت کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ چھ ماہ گزرنے اور اربوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود امریکہ اپنے کسی ایک بھی اسٹریٹجک ہدف کو حاصل نہیں کر سکا۔

نینسی پیلوسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کو ’’غیر قانونی جنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور یہ ایک تباہ کن غلطی ثابت ہوئی ہے، جس میں 19 امریکی فوجی مارے گئے اور 750 سے زائد زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ گزرنے اور اربوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود ’’عظیم شکست‘‘ کے نام سے جاری یہ کارروائی اب تک ایک بھی اسٹریٹجک ہدف حاصل نہیں کر سکی۔

پلوسی نے اپنے بیان میں ’’عظیم شکست‘‘ کی اصطلاح طنزیہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ حکومت کی ناکامی پر تنقید کی۔

اس سے قبل سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما چک شومر بھی ٹرمپ حکومت کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کو چھ ماہ گزر چکے ہیں، جس نے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈالا، ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا اور عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا کیا۔

شومر نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ حکومت ایران کے معاملے میں اپنی ناکامی کے بارے میں واضح جھوٹ بول رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ایران آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha