25 اگست 2026 - 22:52
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 2

قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ؛ سورہ جمعہ کی آیات 1 تا 8، ایک طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقامِ رسالت اور آپ کے مشن کا نقشہ پیش کرتی ہیں، اور دوسری طرف اس قوم کا انجام واضح کرکے دکھاتی ہیں جو کتاب کی مالک تو ہے مگر اس کی حقیقت سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔

وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 2

دوسری قسط:

ایک گمراہ قوم سے جو تمام انسانوں کے لئے نمونۂ عمل بن گئی

قرآن نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مخاطبین کی پچھلی حالت کے بارے میں فرماتا ہے: "وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ؛ اگرچہ وہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔"

ان آیات کی تفسیر میں اہم نکتہ یہ ہے کہ بعثتِ نبیؐ صرف ایک نسل یا ایک جغرافیائی علاقے کی اصلاح کے لئے نہیں ہے۔ تیسری آیت "وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ؛ اور ان میں سے کچھ دوسرے لوگ جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں" کا تذکرہ کرتی ہے۔

علامہ طباطبائی کے مطابق، اس تعبیر میں وسیع گنجائش ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس دعوت کے اثرات صرف نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ابتدائی پیروکاروں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہدایت بعد کی نسلوں اور اقوام کے لئے بھی ہیں [تا قیامت]۔

ہدایت، کسی قوم کا خصوصی امتیاز نہیں

چوتھی آیت اس مشن و رسالت کے نتیجے کو اس طرح بیان کرتی ہے: "ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ؛ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے جسے وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے فضل وکرم والا ہے۔"

یہاں قرآن بعثت اور ہدایت کو "فضلِ الٰہی" قرار دیتا ہے؛ ایک عظیم نعمت جو اللہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ لہٰذا الٰہی ہدایت کو کسی قوم کا خصوصی استحقاق یا نسلی برتری کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ جو چیز اہم ہے وہ اس فضل و کرم سے فائدہ اٹھانا اور اس کا صحیح جواب دینا ہے۔

جو لوگ گدھے کی طرح کتاب اٹھائے پھرتے ہیں

پانچویں آیت سے سورہ کا رخ بدلتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: "مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ مثال ان کی جن پر تورات (کی ذمہ داری) کا بوجھ ڈالا گیا، پھر انہوں نے اسے اٹھایا نہیں؛ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابیں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہو۔"

یہ قرآن کے ان واضح ترین انتباہات میں سے ایک ہے جو "علم" اور "عمل" کے درمیان فاصلے کے بارے میں ہے۔ تفسیر المیزان میں، "تورات کو حمل کرنے (اور اٹھانے)" کا مطلب محض کتاب کا مالک ہونا اور اس کے معارف وتعلیمات سے آگاہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے جو انسان پر ڈالی جاتی ہے اور اسے اس کی زندگی میں نمایاں ہونا اور عملی صورت اپنانا چاہئے۔ جس شخص کے پاس کتاب ہے مگر اس کی حقیقت کا پابند نہیں ہے، وہ اس گدھے کی مانند ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے، بغیر اس کے کہ مضمون و مشمولات سے کوئی فائدہ اٹھائے۔

یہ تعبیر درحقیقت آیت کے تاریخی مُخاطَبِین سے آگے ایک تنبیہ ہے؛ کوئی عنوان و منصب، کتاب، علم یا مذہبی پس منظر اسی وقت قابل قدر ہوجاتی ہے، جب وہ الٰہی پیغام کو حقیقی طور پر "حمل کرنے، اٹھانے اور سنبھالنے" ـ یعنی اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ـ تک اگے لے جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha