تدبر فی القرآن
-
تدبر فی القرآن؛
دشمن اپنی طاقت اور غرور کے عروج پر سقوط و زوال سے دوچار ہوجاتا ہے
حتمی پیغام یہ ہے کہ دشمن شاید دھمکی دے، مذاق اڑائے، اور عارضی طور پر پیش قدمی بھی کر لے، لیکن اس کے راستے کا انجام بند اور واضح ہے۔ اس کے مقابلے میں، حق کا محاذ اگر اپنے راستے پر ثابت قدم رہے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی ایک یقینی مستقبل کی امید رکھ سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیجئے + تیسرے پارے کی تلاوت
قرآن ایک ایسے لین دین کی بات کرتا ہے جس میں 'عطا کرنا' کا مطلب 'کم ہونا' نہیں ہے، بلکہ برکت اور اضافہ ہے. وحی کی منطق میں، ایک دانے کو سات سو گنا بڑھایا جا سکتا ہے، اور سرمایہ الہی نظام میں خرچ کرنے سے، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
فلسفۂ روزہ
خداوند قرآن کریم میں سورہ بقرہ کی آیت 183 میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرماتا ہے "کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ؛ یعنی روزہ تم پر واجب کیا گیا ہے۔" اس آیت اور تفسیر المیزان میں اس کے تجزئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزے کا واجب (یا فرض) ہونا محض ایک تعبدی (اور عبادی) حکم نہیں ہے، بلکہ مؤمنوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے اور پروان چڑھانے، ارادے کی مضبوطی اور نفس پر قابو پانے کا ایک الٰہی منصوبہ ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
یہ راستہ تاریخ کے مشرکین کا راستہ ہے، اس کے برے انجام کا انتظار کرو
تاریخ نے عیاں کیا ہے کہ ہر وہ طاقت جو حق کے مقابل کھڑی ہوئی، اس کا انجام مشرکوں جیسا ہؤا۔ سورہ حج کی آیات خبردار کرتی ہیں کہ یہ راستہ صرف تباہی اور زوال پر منتج ہوتا اور اس راہ کے راہگیر کا انجام انتہائی بھیانک ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
تاریخ کے عظیم ترین معجزات بھی اس قوم کو درست نہ کرسکے
خدائے متعال سورہ نمل کی ابتدائی آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے آغاز کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ تاریخ کے قوی ترین معجزات ان کو عطا ہوئے لیکن یہ تمام تر معجزات فرعونیوں ـ نیز ـ بنی اسرائیل کو راہ راست پر نہیں لا سکے۔
-
تدبر فی القرآن؛
جعلی بیانیہ – 2؛ جعلی بیانیوں سے نمٹنے کے شرعی اور عقلی معیارات
آج دشمنوں کے ساتھ جنگ کا میدان آزاد اور خودمختار قوموں کے ذہنوں کی تسخیر اور جذبات و احساسات کو سمت [یا رخ] دینا اور بدلنا، تسلط پسندانہ اہداف میں شامل ہیں۔ اس مرکب (Hybrid) اور ادراکی جنگ میں، دشمن ـ خاص طور پر ـ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور بصری ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھا کر "جعلی بیانیے" تخلیق کرتے ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
جعلی بیانیہ – 1؛ جعلی بیانیے کی تعریف اور اغراض و مقاصد
آج دشمنوں کے ساتھ جنگ کا میدان آزاد اور خودمختار قوموں کے ذہنوں کی تسخیر اور جذبات و احساسات کو سمت [یا رخ] دینا اور بدلنا، تسلط پسندانہ اہداف میں شامل ہیں۔ اس مرکب (Hybrid) اور ادراکی جنگ میں، دشمن ـ خاص طور پر ـ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور بصری ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھا کر "جعلی بیانیے" تخلیق کرتے ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
صہیونیت کو گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے، اللہ کا وعدہ یہی ہے
سورہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ محاذ جو حق کو دھوکے، قبضے اور بے گناہوں کے خون سے ڈھانپ لیتا ہے جلد یا بدیر منہدم ہو جاتا ہے۔ صہیونیت کے بارے میں جو کچھ آج دنیا کی آنکھوں کے سامنے، وہ طاقت کی علامت نہیں ہے، یہ گھٹنے ٹیکنے کے اسی عمل کا آغاز ہے جس کا خدائے متعال نے وعدہ دیا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
گھبراؤ نہیں، دشمن کی چیخ و پکار خدا کی قدرت کے سامنے محض دھوکہ ہے
سورہ حج کی آیات 65 تا 72 میں خدائے متعال نے ان دشمنوں کی نوعیت بتائی ہے جو بغیر علم کے تنازعات، دھونس دھمکیوں اور جھگڑوں میں مصروف رہتے ہیں لیکن خدا کی قدرت مطلقہ کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دشمن کے تمام شور شرابوں کے پیچھے درحقیقت ضعف و کمزوری، احساس کمتری اور حیرت و گھبراہٹ کارفرما ہے۔