28 اگست 2026 - 03:28
اکسیر وحدت - 2

ماه ربیع الاول کو مسلمانوں کے درمیان وحدت اور ہم-دلی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے 12 ربیع الاول (اہل سنت برادران کے مطابق نبی کریم [صلی اللہ علیہ و آلہ یوم ولادت) سے 17 ربیع الاول (شیعہ علماء کے مطابق ۔۔۔) کے درمیانی فاصلے کو ہفتۂ وحدت کا نام دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تاریخی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پوری تاریخ میں مسلمانوں کی ناکامی میں سے نمایاں کردار ان کے باہمی اختلافات نے ادا کیا ہے۔ اگر مسلمان تمام معاملات میں دینی تعلیمات کے مطابق  عمل کرتے، تو یقیناً آج وہ علوم و فنون کے تمام جدید شعبوں میں ایک پیشرو امت واحدہ ہوتے اور دنیا میں اعلیٰ ترین تہذیب کے مالک ہوتے۔

دوسری اور آخری قسط:

موجودہ دور میں، دوسری مسلط کردہ جنگ، جنوری کی فتنہ انگیز بغاوت اور 40 روزہ جنگ کو پیچھے چھوڑنے کے بعد، دشمن ـ جس کو میدان جنگ میں منہ کی کھانا پڑی ہے ـ معاشی جنگ کو تیز کرنے اور عوام کی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ادراکی جنگ کی حکمت عملی اپنا کر ایران میں سماجی استحکام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ اور صیہونی-امریکی کو ناکام بنانے کا واحد راستہ پورے ملک میں عوامی اجتماعات کو مضبوط کرنا اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔

وحدت کو واحد اکسیر سمجھنا چاہئے جو لوگوں کو ید واحدہ (متحدہ قوت) میں بدل سکتی ہے، اور یہ ید واحدہ دشمن کی ہر سازش کو باطل کرنے والی قوت ہے۔ ایران اور استکباری محاذ کے درمیان موجودہ تقابل کو ایک اسٹریٹجک اور تقدیر ساز اور تاریخ ساز تقابل مقابلہ قرار دینا چاہئے۔

پوری دنیا میں مسلم اور مستضعف اقوام کا مستقبل اس مقابلے کے نتائج سے جڑا ہوا ہے۔

بلاشبہ، ایرانی قوم کی صہیونی-امریکی دشمن کے خلاف فتح کا راز اسی مقدس وحدت اور اتحاد میں نہاں ہے۔

وحدت کو ایک محور کی ضرورت ہے اور ہمارے عزیز وطن ایران میں ولایت کے سوا کوئی اور محورِ وحدت نہیں ہو سکتا۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ولایت اور ہمارے عزیز رہبر حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مُدَّ ظِلُّہُ العالی) کے مقام کو پہچان لیں، ان کے افکار، اہداف، تدابیر و انتظآمات، راہنمائیوں، احکام اور ہدایات مطمع نظر بنائیں اور ولایت کی پیروی کے عملی التزام و پابندی کے ذریعے اسلام کے اس مضبوط قلعے اور امت کے اس اگلے مورچے [Front Line] ـ یعنی اسلامی جمہوریہ ایران ـ کو دشمنوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں۔ [یہ پوری امت کی ذمہ دری ہے، اور جو اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اس کو اپنی سوچ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے]۔

ایران اور اسلامی جمہوریہ کو دشمن کے مقابلے میں محفوظ رکھنے کا واحد راستہ ولایت فقیہ کی حمایت و تقویت اور پیروی ہے۔ ولایت فقیہ کی حمایت و پشت پناہی کا خلاصہ دو لفظ ہیں: ایک طرف سے، ولایت اور ان کے موقف کی صحیح، دقیق اور بروقت شناخت، اور دوسری طرف سے، ولایت کے احکام و فرامین کی بروقت پیروی اور عمل۔"

عصرِ غیبت میں، ولایت فقیہ کی پیروی اور اطاعت، اللہ کی اطاعت ہے جس نے ارشاد فرمایا:

"مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ؛ (سورہ نساء، آیت 80)

جس نے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی ہے۔"

ہرگاہ ایک قوم، کروڑوں آبادی کے ساتھ، اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ، اللہ کی اطاعت کرے، وہ اس جنگ کی حتمی فاتح ہوگی جو دشمن کے ساتھ لڑی جاتی ہے۔ فتح اللہ کی جانب سے، اور اللہ ہی کے لئے ہے۔

﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: بریگیڈیئر جنرل ید اللہ جوانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha