مہدی احمدی
-
تدبر فی القرآن؛
اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیجئے + تیسرے پارے کی تلاوت
قرآن ایک ایسے لین دین کی بات کرتا ہے جس میں 'عطا کرنا' کا مطلب 'کم ہونا' نہیں ہے، بلکہ برکت اور اضافہ ہے. وحی کی منطق میں، ایک دانے کو سات سو گنا بڑھایا جا سکتا ہے، اور سرمایہ الہی نظام میں خرچ کرنے سے، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
میثاق حدیبیہ؛ جنگ بندی یا صلح؟ - 2
قرآن کے ادب میں کلیدی لفظ "صلح" دو مسلمانوں کے گروہوں یا مسلم معاشرے کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں، صلح سے مراد ـ ہر لحاظ سے ـ تعلقات کی اصلاح صرف دو مومن گروہوں اور مسلم معاشرے کے درمیان ہے اور یہ کلیدی لفظ اس معاہدے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا جس کا ایک فریق مشرکین اور کفار پر مشتمل، اور دشمن ہو اور دوسری طرف مسلمان ہوں۔ لہٰذا، دشمنوں کے ساتھ جنگ و جدال ختم کرنا "جنگ بندی" کہلاتا ہے اور یہ بنیادی طور پر "صلح" سے مختلف ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
میثاق حدیبیہ؛ جنگ بندی یا صلح؟ - 1
قرآن کے ادب میں کلیدی لفظ "صلح" دو مسلمانوں کے گروہوں یا مسلم معاشرے کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں، صلح سے مراد ـ ہر لحاظ سے ـ تعلقات کی اصلاح صرف دو مومن گروہوں اور مسلم معاشرے کے درمیان ہے اور یہ کلیدی لفظ اس معاہدے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا جس کا ایک فریق مشرکین اور کفار پر مشتمل، اور دشمن ہو اور دوسری طرف مسلمان ہوں۔ لہٰذا، دشمنوں کے ساتھ جنگ و جدال ختم کرنا "جنگ بندی" کہلاتا ہے اور یہ بنیادی طور پر "صلح" سے مختلف ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
یہ راستہ تاریخ کے مشرکین کا راستہ ہے، اس کے برے انجام کا انتظار کرو
تاریخ نے عیاں کیا ہے کہ ہر وہ طاقت جو حق کے مقابل کھڑی ہوئی، اس کا انجام مشرکوں جیسا ہؤا۔ سورہ حج کی آیات خبردار کرتی ہیں کہ یہ راستہ صرف تباہی اور زوال پر منتج ہوتا اور اس راہ کے راہگیر کا انجام انتہائی بھیانک ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
ایسے پیغمبرجنہوں نے اپنی امت کی سعادت کے لئے بہت زیادہ صعوبتیں جھیل لیں
خداوند متعال سورہ شعراء میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو درپیش مسائل بیان فرماتا ہے اور یہ کہ ان مسائل نے آپؐ کو مفلوج نہیں کیا اور آپؐ نے نسل انسانی کو سعادت اور خوشبختی کی طرف راہنمائی عطا کی۔
-
تدبر فی القرآن؛
صہیونیت کو گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے، اللہ کا وعدہ یہی ہے
سورہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ محاذ جو حق کو دھوکے، قبضے اور بے گناہوں کے خون سے ڈھانپ لیتا ہے جلد یا بدیر منہدم ہو جاتا ہے۔ صہیونیت کے بارے میں جو کچھ آج دنیا کی آنکھوں کے سامنے، وہ طاقت کی علامت نہیں ہے، یہ گھٹنے ٹیکنے کے اسی عمل کا آغاز ہے جس کا خدائے متعال نے وعدہ دیا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
کچھ لوگ دین کو چاہتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، کیوں؟ + تصویر اور ویڈیو
سورہ نور کی آیات 54 سے 58 میں قرآن ایک پرانے تضاد کو نمایاں کرتا ہے: وہ لوگ جو دین و مذہب کا نام پسند کرتے ہیں لیکن جب خدا اور پیغمبر کے احکامات کی تعمیل کی بات آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ سچے ایمان کی پیمائش دعوؤں میں نہیں بلکہ عمل سے ہوتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
جو لوگ خدا کو نہیں مانتے، وہ اس تحریر کو ضرور پڑھیں
سورہ نور کی آیت 44 سے 53 تک کی آیات مؤمنوں سے خطاب سے پہلے، ان لوگوں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں جو خدا کے وجود کے بنیادی تصور کا انکار کرتے ہیں؛ یہ آیات شب و روز بلا وقفہ نظم و ترتیب اور تخلیق کے اسرار و رموز سے شروع ہوتی ہیں اور قدم بہ قدم یہ دکھاتی ہیں کہ مسئلہ صرف 'نشانیاں نہ دیکھنا' نہیں ہے، بلکہ 'فیصلہ اور قانون قبول کرنے سے گریز و انکار ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
گھبراؤ نہیں، دشمن کی چیخ و پکار خدا کی قدرت کے سامنے محض دھوکہ ہے
سورہ حج کی آیات 65 تا 72 میں خدائے متعال نے ان دشمنوں کی نوعیت بتائی ہے جو بغیر علم کے تنازعات، دھونس دھمکیوں اور جھگڑوں میں مصروف رہتے ہیں لیکن خدا کی قدرت مطلقہ کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دشمن کے تمام شور شرابوں کے پیچھے درحقیقت ضعف و کمزوری، احساس کمتری اور حیرت و گھبراہٹ کارفرما ہے۔