25 اگست 2026 - 21:22
امریکی وزیر خزانہ نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کے اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا مگر کیوں؟ + ویڈیو

امریکی جارج میسن یونیورسٹی کے پروفیسر اور امریکی امور کے ماہر نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ کے سائے میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور امریکی بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ الشرقاوی نے اس جنگ کو مبہم اور اس کے نتائج کو غیر یقینی قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی جارج میسن یونیورسٹی (George Mason University) کے پروفیسر اور امریکی امور کے ماہر، ڈاکٹر محمد الشرقاوی نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی جنگ کے سائے میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور امریکی بانڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ الشرقاوی نے ذیل کی ویڈیو میں اس جنگ کو مبہم اور اس کے نتائج کو غیر یقینی قرار دیا ہے۔

امریکی جارج میسن یونیورسٹی (George Mason University) کے پروفیسر اور امریکی امور کے ماہر، ڈاکٹر محمد الشرقاوی کہتے ہیں:

مجھے امریکی وزیر  خزانہ، اسکاٹ بیسنٹ کی باتوں میں کسی خاص قسم کا معیار نظر نہیں آیا۔ ایرانیوں پر ان اقدامات کے اثرات کس وقت پرکھے جائیں گے، نیز دوسرے ممالک کے تعاون یا عدم تعاون کی سطح کس انداز سے پرکھی جائے گی۔

اگلا نکتہ یہ ہے کہ جب آپ ایک اقتصادی جنگ میں اترتے ہیں، تو یہ ایک یکطرفہ جنگ نہیں ہے بلکہ یہ عمل و رد عمل کا ایک سلسلہ ہے۔

بیسنٹ نے کوئی وضاحت نہیں دی ہے کہ بغیر اس کے، کہ توانائی کے شعبے میں تنازع میں شدت آئے، اقتصادی جنگ کے عمل کو کیونکر جاری رکھا جا سکتا ہے؟

امریکیوں کو اس وقت توانائی کے بحران اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے، اس سے بھی اہم یہ کہ، بیسنٹ کیونکر امریکی قرضہ بانڈز مارکیٹ کی حفاظت کر سکتا ہے؟

اس وقت بانڈز مارکیٹ کے جاری اتار چڑھاؤ کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے، اور منڈی میں مصروف بہت سارے سوداگر اور فعال افراد ڈالر کے بجائے سونے کے ذخائر کی طرف چلے گئے ہیں۔

اور تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اقتصادی پابندیاں نافذ کرنے کے لئے ہونے والا اقدام ایک، مرکوز، مربوط اور یکطرفہ نہیں ہے۔ یعنی یہ کہ چین، روس جیسے مشرقی اور بہت سے ایشیائی ممالک، امریکہ کے مخالف محاذ کو تقویت پہنچانے کے لئے 'ڈالر کی کمزوری' سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔

چنانچہ ہم کبھی دیکھتے ہیں اگر ہم ایرانیوں پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کے اوزار سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہیں؛ تو ممکن ہے کہ یہ جنگ بھی اسی منطق کی بنیاد پر شروع کی گئی ہو جس کو انگریزی میں Groupthink یا اجتماعی سوچ کا نام دیا جاتا ہے، یہ پورا گروہ ـ یعنی ٹرمپ کی حکومت ـ کا تصور یہ ہے کہ 'اقتصادی جنگ راہ نجات ہے۔' لیکن یہ اقتصادی جنگ بھی شاید آخرکار اس نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جو امریکہ ایران کے خلاف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha