مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے اس تلخ حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ بہت سے مغربی ممالک فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین صیہونی خلاف ورزیوں کو روکنے میں غاصب اسرائیل کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں۔
خدائے متعال سورہ نمل کی ابتدائی آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے آغاز کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ تاریخ کے قوی ترین معجزات ان کو عطا ہوئے لیکن یہ تمام تر معجزات فرعونیوں ـ نیز ـ بنی اسرائیل کو راہ راست پر نہیں لا سکے۔
ڈیوڈ فیلڈمین نے، "دو ریاستی حل" کے نام سے مشہور فارمولے کے بارے میں کہا: "میں اس حصے کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں جو فلسطینیوں کو واپس کیا جانا ہے، لیکن اس حصے کے خلاف ہوں جو صہیونی تنظیموں کے پاس رہے گا، کیونکہ یہ کام یہودیت کی نظر میں غلط ہے اور عملی طور پر حقیقی انصاف فراہم نہیں کرتا۔"
ان دنوں مقبوضہ فلسطین میں آ بسنے والے یہودی آبادکاروں کی الٹی نقل مکانی کی نئی لہر نے اسرائیلی معاشرے کو سنگین چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ رجحان، جو کئی دہائیوں سے شجرہ ممنوعہ تھا اور صہیونی منصوبے کو ترک کرنے اور صہیونی مقصد سے غداری کے مترادف اور اس سرزمین میں آنے والے کسی بھی یہودی کے لئے بدنما داغ سمجھا جاتا تھا، اب ویسا نہیں رہا جیسا کہ تھا، اور اجتماعی سطح پر ایک وسیع البنیاد تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
آج کے دشمن اسی راستے پر چل رہے ہیں جو بنی اسرائیل نے اختیار کیا، جس طرح سامری نے لوگوں کے ایمان کو ایک بچھڑے کے ذریعے چھین لیا، آج بھی مستکبرین مال و زر، طاقت اور میڈیا کے ذریعے سچ اور حقیقت کو اپنے مفادات کے لئے قربان کر رہے ہیں اور غزہ پر بمباری سے لے کر اقدار کو مسخ کرنے تک، جرم اور دھوکہ دہی کا یہ سلسلہ دہرایا جا رہا ہے۔ یہ وہ نصیحتیں ہیں جو خدا نے سورہ طٰہٰ کی آخری آیات میں ہمیں دی ہیں۔