19 اگست 2026 - 18:50
علاقائی معاملات میں غیروں کی مداخلت تیزی سے کم ہو رہی ہے، ڈاکٹر قالیباف - 2

اسپیکر مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) نے بغداد میں الحاج قاسم سلیمانی اور الحاج ابومہدی المہندس کے مقام شہادت پر حاضر ہوکر کہا کہ یہ جگہ حق و باطل کی محاذ آرائی کی علامت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ رمضان کے بعد ہم علاقے کے امن و امان کے نظام میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ نئے علاقائی نظام میں غیروں اور ماورائے علاقہ عناصر کے علاقائی معاملات میں مداخلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف آج صبح ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ عراق کے اعلیٰ حکام اور اس ملک کی سینیئر عہدیداروں سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کی بہتری، سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے بغداد پہنچے۔ بغداد میں داخل ہوتے ہی انھوں نے شہید الحاج قاسم سلیمانی اور شہید الحاج ابومہدی المہندس کے مقام شہادت پر حاضر ہو کر ان دونوں عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔

دوسری اور آخری قسط:

انھوں نے شہید سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس سے مخاطب ہوکر کہا: پیارے شہید الحاج ابومہدی اور پیارے شہید الحاج قاسم! اپنی جدوجہد اور بابرکت خون کا ثمر دیکھ لیجئے۔ جان لیجئے کہ ہم اور ایران و عراق میں آپ کے مکتب کے تمام ماننے والے، آپ کے اہداف کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اپنی جان، مال اور عزت کو اس مقدس راستے پر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔

قالیباف نے واضح کیا کہ آج کا ہمارا دورہ عراق بھی علاقے میں نئی ترتیب کو مضبوط کرنے اور بیرونی مداخلت کے بغیر علاقے کے تمام ممالک کے درمیان تعاون کو تیز کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

اسپیکر مجلس نے اعلان کیا: جنگ کے دوران بھی میں نے کئی بار عوامی طور پر کہا کہ علاقے کی اسلامی ممالک کو گہرے تعاملات اور سیکیورٹی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو پائیدار اقتصادی تعاون کے ذریعے مستحکم ہوں، اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کے لیے تیار ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران اور عراق کی ثقافتی اور مذہبی قربت اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لئے ایک ممتاز موقع فراہم کرتی ہے، جس کے لئے بغداد کے دورے کو ترجیح دینی چاہئے تھی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مقننہ کے سربراہ اس دورے کے اپنے پروگراموں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اس دورے میں، میں عراق کی حکومت اور پارلیمنٹ کے حکام اور سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شخصیات سے ملاقات اور گفتگو کروں گا۔ اس کے علاوہ، میں رہبر معظم انقلاب کی نمائندگی کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے امامِ شہید کی تدفین کے چہلم کی مجالس میں میں شرکت کروں گا اور ان کا اور عراقی قوم و حکام کو عالمِ تشیّع اس عظیم مرجع تقلید کے شاندار جلوس تشییع پر شکریہ کا پیغام پہنچاؤں گا۔

انھوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ـ ایران اور عراق کی دو قوموں کا رشتہ ایک تاریخی، گہری جڑوں پر استوار اور ناقابلِ شکست رشتہ ہے، ـ کہا: ہماری ہمسائیگی، بھائی چارے، اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت، غیروں کی مداخلت کے خلاف مزاحمت، اور دونوں ممالک کے مشترکہ مقدر پر یقین کی بنیاد پر قائم ہے، اور یہ سبق آموز ماضی مستقبل میں ہماری رہنمائی کرے گا۔ ان شاء اللہ اس دورے میں ہم مشترکہ اور اندرونی سلامتی کو مضبوط کرنے اور دونوں قوموں کی فلاح و بہبود کے لئے بڑے قدم اٹھائیں گے۔ ہماری طاقت ہماری بھائی چارے میں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha