بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان)، ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج پارلیمان کے اجلاس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک امریکہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (تفاہم نامہ) کی تمام شرائط پر عمل نہیں کر لیتا۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائطِ:
انھوں نے واضح کیا کہ جب تک:
• بحری ناکہ بندی ختم نہ ہو،
• منجمد ایرانی اثاثے واپس نہ کر دیئے جائیں،
• ایرانی تیل کی برآمدات پر تمام تر پابندیاں اٹھا نہ لی جائیں،
• اور تمام محاذوں پر فوجی دھمکیاں اور کارروائیاں بند نہ ہو جائیں،
تب تک آبنائے ہرمز بند ہی رہے گا۔
پسِ منظر:
• غدار امریکی-اسرائیلی دشمن نے پہلے ایران پر حملہ کر کے بڑی غلطی کی، مگر ایرانی عوام اور فوج نے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف آمام سید مجتبی حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت میں ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ پوری دنیا نے ایران کی فتح تسلیم کر لی۔
• اسی مجبوری میں امریکہ کو "اسلام آباد معاہدہ" طے کرنا پڑا، مگر جلد ہی اس نے عہدشکنی کی؛ چنانچہ اب ایران نے سفارتی اور فوجی میدان کو ملا کر جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی و حکومتی پہلو:
• جنگ بندی کے دوران ایران نے معاشی استحکام اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کا موقع غنیمت جانا۔
• خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ اب معاشی دباؤ اور داخلی اختلافات کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے، اس لئے تمام حکام کو عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینا چاہئے اور ایسے اقدامات سے بچنا چاہئے جو عوام میں بے چینی پیدا کریں۔
اتحاد اور میڈیا کا کردار:
• جنگ کا وقت سیاسی مقابلے کا میدان نہیں، بلکہ یہ 90 ملین ایرانیوں کے اتحاد کا وقت ہے۔
• دشمن کی "ادراکی جنگ" (Cognitive War) میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے۔
اختتامی پیغام:
• ہمارا عزم ہے کہ ایران اپنے شہدا (بالخصوص میناب کے بچوں) کے خون کا بدلہ لے گا، کسی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا، اور وحدت، عقلیت اور شجاعت کے ساتھ اس تاریخی امتحان میں کامیاب ہوگا۔
• "ہم دشمن کو اس سے بھی زیادہ سخت شکست دیں گے" اور اس مجاہد قوم کے لئے اللہ کی نصرت یقینی ہے۔
پیغام:
یہ بیان دراصل ایران کی دوہری حکمتِ عملی ہے؛ ایک طرف سفارت کاری کو موقع دینا، دوسری طرف فوجی طاقت کو استعمال کرنے کی دھمکی؛ تاکہ امریکہ کو عملی طور پر مجبور کیا جا سکے کہ وہ پابندیاں اٹھائے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بحران کو ختم کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ