سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ کا بیان نمبر 42 درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ قَاصِمِ الْجَبَّارِینَ
﴿فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ﴾
اسلامی ایران کی عظیم الشان امتِ بیدار!
ملکی سڑکوں پر آپ کی اثرگذار حاضری کا حماسہ اقوام عالم کو بیدار اور زمین کو ممستکبرین پر تنگ تر کرنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔
امریکہ کے جارحانہ حملے گذشتہ راتوں میں خلاف ورزی کرنے والے جہازوں میں دھماکوں کے جواب کے بہانے کئے جا رہے تھے۔
• گذشتہ رات بھی دہشت گرد امریکی فوج کی طرف سے جہازوں کے عملے کی ترغیب کے باوجود، کسی بھی جہاز نے آبنائے کے جنوب میں غیر قانونی راستے سے گذرنے کی جرأت نہیں کی، چنانچہ ظاہر ہے کہ کوئی دھماکہ بھی نہیں ہؤا۔ پھر بھی طفل کُش امریکی فوج نے اپنی جارحانہ عادت ترک نہیں کی اور ہمارے متعدد فوجی اور غیر فوجی مراکز پر فضائی اور میزائل حملے دہرائے اور اب اسے شدید جوابات مل رہے ہیں۔
• اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے، سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے بہادر مجاہدین نے دشمن کی جارحیت کے جواب میں آپریشن نصر 2 کی 25ویں لہر کو ـ مبارک کوڈ نیم "یَا حَسَنَ بْنَ عَلِی(ع)" کے ساتھ، ـ میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے شہداء کے نام کرتے ہوئے، اردن میں امریکی اڈوں کو ایک بار پھر تباہ کن حملوں کا نشانہ بنایا۔
• جوابی کارروائی کے پہلے مرحلے میں ملک فیصل اور پرنس حسن ایئربیسز پر میزائل اور ڈرون حملے کئے اور ایف 15 طیاروں کی تیاری کے ایک ہینگر کو نشانہ بنایا گیا اور اسی طرح ڈرون تیاری کے ایک ہینگر پر حملے میں، تیاری سے پہلے اپنی پیکنگ میں موجود آٹھ نئے اور باکس-بند MQ9 ڈرون مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے اور ان میں سے دو کو ـ جو کھلے میدان میں حملے کے لئے تیار تھے، ـ بھاری نقصان پہنچا۔
• ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کے ہینگر پر اگلے حملے میں دو امریکی بھاری ہیلی کاپٹروں کو بنیادی نقصان پہنچا۔
• جارح امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ پر حملے میں، متعدد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
جارح کو سزا دینے کے امتداد میں مزید کاروائیاں جاری ہیں، کیونکہ اگر جارح کو سزا نہ دی جائے اور اس کو عہد شکنی اور معاہدوں کی پامالی کی بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑے، تو وہ سمجھے گا کہ جب چاہے جنگ دوبارہ شروع کر سکتا ہے اور جب دباؤ میں آئے تو اسے ختم کر دے گا، اور "جنگ، مذاکرات اور پھر جنگ" کا "چکر" دہرائے اور جنگ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رکھے گا۔ تسدید (ڈیٹرینس) کو بحال کرنے اور مستحکم امن قائم کرنے کا واحد راستہ قرآن کے اس حکم پر عمل کرنا ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾
ملک سے جنگ کا سایہ ہمیشہ کے لئے دور کرنے کے لئے استقامت اور جارحوں پر بھاری قیمت مسلط کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اگر یہ جوابات کافی نہ ہوئے اور جارحیت جاری رہی تو ہم ایک ایسے پشیمان کن آپریشن کے لئے تیار ہیں جو امریکہ میں عام سوگ کا اعلان کرے گا۔
﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ﴾
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ