24 جولائی 2026 - 16:01
ایران دنیا کے گاڈفادرز کا کھیل بگاڑ رہا ہے؛ لیکن کیوں اور کیسے؟ - 2

ایران پر مسلسل جارحیتوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب کی "اوزاری عقل"  "ایمانی عقل" کے مقابلے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مغرب کی آلاتی عقل کہتی ہے کہ جس کے پاس زیادہ ہتھیار اور زیادہ پیسہ ہے، وہی کامیاب ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں میدانِ جنگ کی حقیقت (دفاعِ مقدس سے لے کر محور مقاومت [محاذ مزاحمت] محاذ کی فتوحات تک) ایک مختلف بیانیہ تخلیق اور مستحکم کر چکی ہے۔ [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ [---] ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو مادے سے معنیٰ (اور مادیت سے روحانیت) میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ معنوی نگاہ اپنے ساتھ ایک قسم کی اسٹراٹیجک تخلیقیت لاتی ہے۔

دوسرا حصہ:

تاریخی دستاویزات اور سیکیورٹی درجہ بندیوں سے نکلی ہوئی (بشمول امریکہ کی کونسل آن فارن ریلیشنز - CFR کی) دستاویزات بتاتی ہیں کہ بڑی طاقتوں نے ایک غیر تحریری قانون پر اتفاق کیا: "اطراف کے ممالک میں ترقی صرف نمائشی اور مغرب سے وابستہ ہو۔" اس معاہدے کے مطابق اور "نظریۂ انحصار" کی بنیاد پر، وسائل رکھنے والے ممالک کو علم و سائنس کے کنارے (Edge) تک نہیں پہنچنا چاہئے۔ اس پالیسی کو "محیطی ترقی (Peripheral Development)" کہا جاتا تھا۔ "نظامہائے عالم کے نظریئے (World-systems theory)" کا حوالہ بخوبی ظاہر کرتا ہے کہ "مرکز" کے ممالک کی دولت، "محیطی" ممالک میں منظم استحصال اور مقامی علمی ذخیرہ روکنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کی واضح مثال ایران میں تیل کی صنعت کی قومی تحریک 1953) تھی، جب ایران اپنے "وسائل" پر حاکم بننا چاہتا تھا، لیکن 19 اگست 1953 کی بغاوت کے ذریعے یہ جتایا گیا کہ مقامی طور پر مقامی وسائل پر کنٹرول بھی مغرب کے لئے ایک خطرہ تھا، خود مختار انتظام تو در کنار۔

ممنوعہ فارمولا: "طبعی وسائل" اور "مقامی تکنیکی طاقت" کا سنگم

روس اور انگلستان کے درمیان "عظیم کھیل" کے زمانے سے لے کر آج تک، ایران کو کمزور رکھنا عالمی طاقتوں کا بنیادی مقصد رہا ہے تاکہ اس کو بڑے علاقائی اتحا بنانے سے روکا جا سکے۔ ایک طاقتور ایران کا مطلب ہے یہ ہے کہ عالمی توانائی کا انتظام کا پیٹرو-ڈالرز کے ہاتھوں سے نکل جائے اور طاقت کا مرکزِ ثقل کا ایشیا کی طرف منتقل ہونا، اور یہ ایسی بات نہیں ہے جسے مغرب آسانی سے نظر انداز کر سکے۔ عالمی ترتیب کی ناقابلِ عبور سرخ لکیر (مقامی ٹیکنالوجی کے سانچے میں) "مادے" اور "معنی"  کا امتزاج ہے۔ اگر کسی ملک کے پاس صرف وسائل ہوں (جیسے خطے کے تیل والے ممالک)، تو اسے آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے کیونکہ اسے نکالنے اور دولت میں تبدیل کرنے کے لئے وہ مغربی انجینئرنگ اور انتظام کا محتاج رہتا ہے۔ لیکن ایران نے "مقامی سائنس" پر توجہ مرکوز کرکے انحصار کی اس زنجیر کو توڑ دیا۔

ایران کی جوہری توانائی اور سائنس کے کناروں تک رسائی کی کوشش، دراصل ان کے "کنٹرول شدہ ترقی" کے نقشے سے باہر نکلنے کے مترادف تھا۔ مغرب، امریکہ کی قیادت میں، 1990ع‍ کی دہائی میں "دوہری تسدید کے نظریئے" (Double Deterrence Theory) جیسی پالیسیوں کے ذریعے، ہمیشہ ایران کی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی رکھنے والا ایران، یعنی "پابندیوں" کے "اوزار" کے اثر کا خاتمہ۔ جب ٹیکنالوجی مقامیائی جاتی ہے، تو پابندی رکاوٹ نہیں، بلکہ ایجادات اور جدتوں کے لئے ایک محرک بن جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha