اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اس ہفتے ٹرمپ نے کہا ہے کہ “وقت آن پہنچا ہے کہ امریکہ گولان پر یہودی ریاست کی مالکیت کے دعوے کو تسلیم کرے۔۔۔ تل ابیب نے سنہ ۱۹۶۷ع سے لے کر اب تک گولان پر ۵۰ سالہ غیرقانونی قبضے کے بعد شام کے اس مقبوضہ علاقے کو سابقہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں شامل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ روس کی اسپوتنیک خبرایجنسی نے امریکی قلمکار ڈاکٹر مائیکل جونز سے بات چیت کی ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کونسی چیز نے ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے؟
سوال: گولان پہاڑیوں کے سلسلے میں ہونے والے ٹرمپ کے اعلان اور اس کے ساتھ “صدی کی ڈیل” پر آپ کا کیا تاثر ہے؛ جبکہ صدی کی ڈیل ـ جس کا اعلان وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے کیا ہے ـ ایک اسرار آمیز قصہ ہے جس کے بارے میں شاید کوئی بھی کچھ نہیں جانتا؟
جواب: بنیامین نیتن یاہو نے مائیک پامپیو کے ساتھ مل کر گولان کے سلسلے میں یہ اعلان کیا جس سےثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ یوٹیوب پر موجود ہے۔ اور اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا امریکہ اس سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے یا نہیں تو اس سلسلے آنے والے تبصروں کو دیکھ لیں، کوئی بھی تبصرہ اسرائیل کی حمایت میں نہیں آیا۔ اس کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو منتقل کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ “ہمارا ملک ریاست ہائے متحدہ اسرائیل میں تبدیل ہوچکا ہے”، “امریکہ بک رہا ہے”، وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ مسئلہ یہ نہیں ہے۔ امریکی عوام بالکل لاتعلق ہیں، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس پورے قصے کے خلاف ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ قصہ اس وقت کیوں سامنے آرہا ہے؟ حقیقی وجہ یہ ہے کہ آپ دو ڈوبتے انسانوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے ایک بہت بڑے طوفان کے بیچ ایک دوسرے کو پکڑ لیا ہے۔ یہ دو ڈوبتے آدمی ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں۔ نیتن یاہو پر بہت جلد فرد جرم عائد ہونے والی ہے۔ اس کو اس تباہی کے لئے ایک قسم کی بغاوت کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ میں بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔ گوکہ وہ فرد جرم کا سامنا نہیں کررہے ہیں لیکن جب سے وہ صدارتی دفتر میں داخل ہوئے ہیں “خفیہ حکومت (Deep state) کی مسلسل کوشش ہے کہ انہيں دفتر سے نکال باہر کرے یا کم کم از کم انہيں سدھا کر وہ کچھ کرنے پر آمادہ کرے جو خفیہ حکومت چاہتی ہے۔
یہ اس لئے نہیں ہے کہ ٹرمپ کو منتخب کیوں کیا گیا۔ میں اس وقت انڈیانا کے ساوتھ بینڈ میں موجود تھا جب ۵۰۰۰ لوگوں نے ٹرمپ کے لئے مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا؛ کیونکہ وہ اس حقیقت کو بھانپ گئے ہیں کہ اس ملک میں دو جماعتیں ہیں جو امیروں کی نمائندگی کررہی ہیں، اور کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہے جو امریکی عوام کے مفادات کی نمائندگی کررہی ہو۔
امیر شاہی کی ایک بڑی شراکت دار، سیاسی نظام پر یہودی فوقیت طلبی ہے۔ مینیسوٹا (Minnesota) ریاست کی رکن کانگریس ایلہان عمر (Ilhan Omar) نے اس مسئلے کو اٹھایا جو صومالیہ کی ایک مسلم خاتون ہیں اور سب چیخ اٹھے کہ یہ خاتون ایسی بات کیونکر کرسکتی ہیں؟ جی ہاں! انھوں نے یہ بات کہہ دی کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے۔ اسی وقت آپ اس تضاد کو متبادل ذرائع ابلاغ دیکھ سکتے ہیں۔ یو ٹیوب اور وہاں کے تبصرے اور سرکاری ذرائع ابلاغ جو سرکاری منصوبے کے مطابق چلتے ہیں وہی جنہوں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے لئے ماحول تیار کیا تھا۔
سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل واشنگٹن کی طرف سے نیتن یاہو کی حمایت اسرائیل کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے؟
جواب: [ہنستے ہوئے] یہ ایک لطیفہ ہے! کیا آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے انتخابات میں مداخلت کرتے ہیں۔ میں تو اس بات کو پلٹا کر بیان کروں گا اور سوال یوں اٹھاؤں گا کہ “کیا اسرائیل امریکی انتخابات میں مداخلت کرتا ہے؟ یقینا اسرائیل امریکی انتخابات میں مداخلت کرتا ہے۔ نیتن یاہو مسلسل امریکہ میں دکھائی دے رہا ہے، حالانکہ اوباما اس کے امریکہ آنے کے روادار نہیں تھے۔ وہ یہاں آتا ہے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خلاف بولتا ہے اور ۲۵ افراد اٹھ کر اس کے لئے تالیاں بجاتے ہیں، کیا یہ انتخابات میں مداخلت نہيں ہے؟ یہ ایک لطیفہ ہے؛ وہ انتخابات میں مداخلت نہيں کرتے بلکہ انتخابات کو اپنی نگرانی میں منعقد کرواتے ہیں۔
سوال: گولان کے سلسلے میں ٹرمپ کے موقف کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔ بہت سے سیاستدانوں نے عالمی سطح پر کہہ دیا ہے کہ امریکی اقدامات بین الاقوامی قوانین کو پامال کررہے ہیں؛ امریکی انتظامیہ کے اس اقدام کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: جب بھی ٹرمپ اس طرح کا کوئی اقدام بجا لاتے ہیں، وہ نیٹو کی تباہی کی طرف ایک نیا قدم اٹھا لیتے ہیں۔ اس کے رد عمل میں سب سے زیادہ تیز و تند اور پُرزور موقف ترکی کے اردوگان کی طرف سے سامنے آیا جنہوں نے کہا کہ اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اردوگان نیٹو کے رکن ہیں۔ اردوگان نے اب روسی میزائل خرید لئے ہیں اور امریکہ اب ان کے ایف ۳۵ طیارے انہیں نہیں دے رہا ہے۔ یہ کہنا صرف ایک تکلف ہے کہ ترکی نیٹو کا رکن ہے۔ جب آپ یہ میزائل خریدتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے ہوگا کہ آپ نیٹو میں آپریشنل نہیں ہیں، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نیٹو سے باہر ہیں اور اس صورت حال نے نیٹو سے ترکی کی اجنبیت کی رفتار کو تیزتر کردیا ہے۔
اس صورت حال نے نیٹو سے جرمنی کی دوری کی رفتار کو بھی تیز کردیا ہے۔
جو کچھ یہ سیاستدان کررہے ہیں سب قلیل المدت مقاصد کے حصول کے لئے ہے۔ یہ چیکرز (checkers) کھیل رہے ہیں جبکہ باقی دنیا شطرنج کھیل رہی ہے۔ وہ اپنے اقدامات کے طویل المدت عواقب و نتائج سمجھنے سے عاجز ہیں۔ یہ رویہ قدم بقدم امریکی سلطنت (American Empire) کو تباہ کررہا ہے، کیونکہ جو کچھ ہورہا ہے، وہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ امریکہ مکمل طور پر قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کررہا ہے اور یہ کہ ہم [امریکی] اپنے ان قلیل المدت کے مقاصد کے حصول کے لئے جو کچھ چاہیں گے کر گذریں گے۔ اس صورت حال کا طویل المدت نتیجہ نیٹو کے زوال ـ اور امریکی ـ یورپی تعاون کے خاتمے ـ کی صورت میں برآمد ہونے والا ہے۔
سوال: امریکہ میں اس بارے میں کیا اطلاعات دی جارہی ہیں؟ کیا اس کو وسیع ابلاغیاتی کوریج مل رہی ہے؟
جواب: اس مسئلے کو ملنے والی پریس کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا کہنا چاہئے ۔۔۔ اگر آپ نیویارک ٹائمز کا آج کا اداریہ دیکھیں تو یہ بہت زیادہ خاموش ہے، وہ حقیقتا نہیں جانتے کہ انہیں کیا کہنا چاہئے، کیونکہ وہ ایک رسی میں بندھے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ مشتعل ہیں اور وہ اسرائیل کے کھلے ہوئے حامی ہیں، تاہم وہ اس قسم کے اقدامات کی سنگینی اور درشتی کی وجہ سے پریشانی اور الجھن کا شکار ہیں کیونکہ وہ ان اقدامات کے لئے کسی قسم کی فلسفی اور اخلاقی جواز پیش کرنے سے عاجز ہیں اور یہ صورت حال نیویارک ٹائمز میں لوگوں کو پریشان کررہی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ذرائع ابلاغ کا عمومی رد عمل یہی ہے۔ یہ شرمناک ہے کہ ایک ملک کا ایسا صدر اور ایسے سینیٹرز ہوں جو ایسے شخص کی حمایت میں اپنے آپ کو ذلیل کررہے ہیں جو اسرائیلی انتخابات میں منتخب نہیں ہوسکا ہے۔ اور یہ شرمناک ہے کہ اچانک کہا جائے کہ “ہمیں کوئی پروا نہیں ہے کہ یہ عمل قانون کی حکمران سے مطابقت رکھتا ہے یا نہيں رکھتا؛ ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے، ہم صرف اسے انجام دینا چاہتے ہیں۔ یہ لمبی مدت کی کامیابی کا دستور العمل نہيں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ذرائع ابلاغ عمومی طور پر الجھن اور شرمندگی کا شکار ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ انہیں کیا کہنا چاہئے۔
سوال: دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کو وجود ميں لایا گیا تھا تا کہ دنیا کو بین القوامی قانون کے تابع بننے میں مدد بہم پہنچائے۔ اس وقت اقوام متحدہ کو کس طرح امریکہ کے محرکات، مقاصد اور اقدامات کا اندازہ لگانا چاہئے؟
جواب: سلامتی کونسل، روس اور چین اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی طرف قدم بڑھا رہے ہيں اور کہہ رہے ہیں کہ “ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں”؛ اقوام متحدہ یہاں ہے کہ قانون کی حکمرانی کو ایک بار پھر نافذ کرے یہ سب کہنا چاہتے ہیں کہ: ہم اپنے اس موقف کو دہرا رہے ہیں جو ہم نے ۱۹۶۷ع میں گولان پر غیر قانونی قبضے کے بارے میں اختیار کیا تھا، ہم اپنا موقف تبدیل کرنے کی طرف نہیں جارہے ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو انہیں کرنا چاہئے؛ کسی کو قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑا ہونا چاہئے اور لگتا ہے کہ اس کے لئے اس نقطے پر کھڑا ہونے والا ملک “روس” ہوسکتا ہے۔
سوال: کیا آپ مجموعی طور پر پرامید ہیں کہ کوئی چیز بالآخر اس رستے کو تبدیل کردے گی؟
جواب: یہ ایک معنوی (semantic) مسئلہ ہے۔ ہم امریکی وزارت خارجہ کے ذخیرہ الفاظ میں تبدیلی کے بارے میں بات کررہے ہیں؛ جو درحقیقت ان حقائق کو تبدیل نہیں کرے گی جو واقع ہوئے ہیں۔ ایک اہم حقیقت یہاں یہ ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور سعودی عرب شام میں جنگ ہار چکے ہیں۔ وہ جنگ ہار گئے۔۔۔ یہ حقائق محض ذخیرہ الفاظ کی تبدیلی سے نہیں بدلیں گے، اور یہ وہی چیز ہے جس سے وہ نمٹنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی امر واقع ہے۔ یہ رویہ درحقیقت کسی صورت میں بھی حقائق کی تبدیلی کا سبب نہيں بنے گا۔
یہ کہ وہ شام میں جنگ ہار چکے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو اس وقت سے کہیں زیادہ متزلزل صورت حال کا سامنا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب نے شام میں جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اگر آپ موضوع کو دور رس نگاہ سے دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم کہنا چاہیں گے کہ عراق پر امریکی جارحیت کا خالص اور انتہائی نتیجہ کیا تھا، جس نے عملی طور پر ہر امریکی شہری کے ضمیر کو کچل کر رکھ دیا؟ اس نے ایران کو علاقائی طاقت کو طور پر ابھارا۔ چنانچہ میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کو یہ مسئلہ وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ ہیگل نے اس کو عقل کی حیلہ گری سے تعبیر کیا ہےـ ایک طاقت انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے سرگرم عمل ہے جو نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے سیاستدانوں کے اغراض و مقاصد کی مزاحمت کرتی ہے۔
https://sputniknews.com/analysis/201903231073482316-trump-golan-announcement-to-backfire-writer-warns/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲