25 جون 2026 - 22:25
حصۂ اول | عاشورا اور ہماری ذمہ داریاں؛ اشکوں سے ظہور کی تیاری تک

یوم عاشورا وہ دن ہے جب زمین و زمان عظیم  ترین غم و اندوہ میں مبتلا ہے، تاریخ کی عزاداری اور یوم سوگ ہے؛ کائنات کے تمام ذرے اس بے انتہا ماتم و عزا کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر غم سے تڑپ رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا | مؤمنین "اس عظیم مصیبت میں سر و سینہ پیٹتے ہیں، لیکن ہمیں اس بے چینی اور اشک و آہ کے بیچ خود سے پوچھنا چاہئے:

یہ داغ جو ہمارے دلوں میں تازہ ہے اور ٹھنڈا نہیں ہوتا، ہمیں کس راستے کی طرف بلا رہا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ عاشورا ہمارے لئے ماضی بعید میں ختم ہونے والا کوئی توقّف گاہ نہیں؛ بلکہ اصل چشمہ اور سہارا ہے جو ہمیں حضرت ولی عصر (عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہُ الشَّریف) کے ظہور پر نور تک پہنچا دیتا ہے۔

وہ بڑا نقشہ جو خدائے حکیم نے ہماری ہدایت و سعادت کے لئے کھینچا ہے، چار اہم حصوں پر مشتمل ہے جن میں سے کوئی بھی دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا:

• "بعثت"، جس نے ہمیں راستہ دکھایا،

• "غدیر"، جس نے راہبر اور پیشوا اور ولی و مولا کو متعارف کرایا،

"عاشورا"، جس نے حضرت ابا عبداللہ الحسین (علیہ السلام) اور ان کے وفادار اصحاب (علیہم السلام) کی قربانی اور حضرت زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا) کی رسالت کے ذریعے دین کا چراغ بجھنے نہیں دیا؛ اور بالآخر

• "ظہور"، جو ان سب کا حتمی نتیجہ اور آخری منزل ہے۔

ہم آج تاریخ کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں اپنے ساتھ سچا اور ایماندار ہونا چاہئے:

حضرت سیدالشہداء (علیہ السلام) کے مصائب پر رونا اور عزاداری کرنا، اگر ہمیں اپنے امام زمانہ حضرت مہدی (عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہُ الشَّریف) کی نصرت تک نہ پہنچائے، تو گویا ہم راستے کے بیچ میں رہ گئے اور منزل تک نہ پہنچے۔ ان آنسوؤں کو ہماری آنکھوں سے دھول صاف کرنا ہے، تاکہ ہم حاضر امام حاضرؑ کو غیبت اور غفلت کے درمیان اپنے  کو پہچان سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ "مقتول کربلا حضرت سیدالشہداء (علیہ السلام" کے لئے رونا، "منتقمِ کربلا حضرت ولی عصر (عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہُ الشَّریف)" تک پہنچنے کی سیڑھی ہے؛ ورنہ محض ماضی کے سوگ و عزا میں محض ٹہرے رہنا، امام زمانہؑ کی آج کی تنہائی کو نظرانداز کرنا، وہی چیز ہے جو دشمن پسند کرتا ہے۔

آنسو جو آگاہی بخش ہو، دل کو نصرت اور یاری کے لئے حوصلہ مند بناتا اور زیادہ تیار اور چوکس کر دیتا ہے اور عزادار کو "اپنے امام زمانہؑ کا سپاہی" بنا دیتا ہے۔

کچھ لوگ ظہور کو محض ایک میٹھے اور دسترس سے باہر کے سپنے کے طور پر دیکھتے ہیں؛ گویا طے یہ ہے کہ ہمارے امام زمانہؑ کے وجود کا سورج طلوع ہوگا اور ہم صرف دعا کے ذریعے، اور کوئی قدم اٹھائے بغیر، اور اس راہ میں کوئی دکھ اور تکلیف برداشت کئے برداشت کئے بغیر، دیکھیں گے کہ دنیا ایک معجزے سے گلستان بن گئی ہے۔

لیکن ہماری متعدد روایات نے اس عافیت طلب تصور کو ختم کر دیا ہے۔ "بشیر نبال" کا واقعہ اور جو جواب انھوں نے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے سنا، ہم سب کے لئے چونکا دینے والا ہے۔ بشیر نبال لوگوں کے اس تصور کی بات کر رہے تھے جو منتظر تھے کہ ظہور خودبخود اور معجزے کے ذریعے سب کچھ ٹھیک کر دے گا؛ لیکن امامؑ نے اپنے ہاتھ سے ان کی پیشانی تھپکی ماری اور فرمایا:

«ہرگز نہیں! اگر کام معجزے سے اور بغیر مشقت کے آگے بڑھتا، تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے لئے آگے بڑھتا کہ جنگوں میں آپؐ کی پیشانی مبارک پر زخم آئے اور آپ کا دندان مبارک ٹوٹ گیا"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: احمد شرف خانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha