ملینز حسینی عزادار عاشورا کے ظہر کو دنیا کے عظیم ترین ماتمی دستے میں، طویریج کے مقام سے حَرَمِ امام حسین(ع) پہنچے۔ اس موقع پر بے شمار علموں اور عزاء کے پرچموں کے درمیان بڑی تعداد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم پرچم بھی لہرائے جاتے رہے اور بڑی تعداد میں عزاداروں نے رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی تصویری اٹھا رکھی تھیں۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے جمعہ کے دن اپنے خطاب میں کہا کہ ایران نے ایک مفاہمت نامے تک رسائی حاصل کی جو امریکہ اور صہیونی ریاست کی باضابطہ شکست کا اعلان تھا، اور مقاومت اسلامی جمہوریہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
یوم عاشورا وہ دن ہے جب زمین و زمان عظیم ترین غم و اندوہ میں مبتلا ہے، تاریخ کی عزاداری اور یوم سوگ ہے؛ کائنات کے تمام ذرے اس بے انتہا ماتم و عزا کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر غم سے تڑپ رہے ہیں۔
یوم عاشورا وہ دن ہے جب زمین و زمان عظیم ترین غم و اندوہ میں مبتلا ہے، تاریخ کی عزاداری اور یوم سوگ ہے؛ کائنات کے تمام ذرے اس بے انتہا ماتم و عزا کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر غم سے تڑپ رہے ہیں۔
یوم عاشورا وہ دن ہے جب زمین و زمان عظیم ترین غم و اندوہ میں مبتلا ہے، تاریخ کی عزاداری اور یوم سوگ ہے؛ کائنات کے تمام ذرے اس بے انتہا ماتم و عزا کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر غم سے تڑپ رہے ہیں۔
ان دنوں میں جب ایرانی قوم خود کو اپنے شہید رہبر امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) سے وداع کے لئے تیار کر رہی ہے اور ساتھ ہی حضرت ابی عبداللہ الحسین (علیہ السلام) کے سوگ میں عزادار ہے، ایک بڑا سوال رائے عامہ میں پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ: کیا ان دو واقعات کے درمیان محض ایک تاریخی ہم وقتی ہے یا ایک گہرا اور تہذیبی و تمدنی ربط؟