اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ عسکری میدان اور سفارت کاری کو ایک دوسرے کے متضاد سمجھنا ایک غلط تصور ہے، کیونکہ دونوں ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات اور اس دورے کی کامیابیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری اور عسکری میدان ایک دوسرے کے مخالف ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ عسکری میدان میں حاصل ہونے والی ہر کامیابی اس وقت تک مکمل ثمرات نہیں دے سکتی جب تک اسے سیاسی اور قانونی سطح پر تسلیم نہ کرایا جائے اور مستقل بنیادوں پر محفوظ نہ بنایا جائے۔ ان کے بقول اگر سفارت کاری نہ ہو تو میدان میں دی جانے والی قربانیاں اور کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ بعض اوقات عسکری حالات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے سفارت کاری وہ اہداف حاصل کر سکتی ہے جنہیں میدان میں آگے بڑھانا ممکن نہ ہو۔ اس طرح سفارتی محاذ عسکری کامیابیوں کو عملی اور پائیدار نتائج میں تبدیل کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات بھی جدوجہد کا ایک طریقہ اور اسی جدوجہد کا تسلسل ہیں، اس لیے عسکری اور سفارتی میدانوں کے درمیان مصنوعی تقسیم پیدا کرنا یا انہیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا گمراہ کن طرزِ فکر ہے۔
قالیباف کے مطابق قومی مفادات کے تحفظ اور سیاسی اہداف کے حصول کے لیے عسکری قوت اور سفارت کاری دونوں کا باہمی تعاون ضروری ہے اور کسی ایک کو دوسرے کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
آپ کا تبصرہ