تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روس اور بھارت نے غزہ کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر قائم رہیں۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے فلسطینی اور عرب ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق قاہرہ میں جاری مذاکرات مکمل طور پر بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔
،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر خصوصی جَیرڈ کُوشنر کے حالیہ دورۂ اسرائیل کے دوران امریکی حکام نے غزہ میں سرگرم مسلح گروہوں سے رابطے قائم کیے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی اراضی فرانسسکا البانیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کو اپنی زندگی کی ’بدترین توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ قانونی حیثیت رکھتا ہے نہ اخلاقی جواز۔
یورپی پارلیمنٹ کی اسپین سے رکن، ایرنے مونترو نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا مشترکہ منصوبہ کبھی بھی غزہ میں امن کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد فلسطینیوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور ان کی نسل کشی پر اٹھنے والی آوازوں کو دبانا تھا۔
ہندوستان کے معروف سیاسی تجزیہ کار پروفیسر ادم حسنین نے کہا کہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور غزہ کے درمیان ہونے والا جنگ بندی معاہدہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں تجویز کردہ جنگ بندی کا منصوبہ، روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے ان کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے پر مشروط رضامندی ظاہر کی ہے اور وہ پائیدار امن کے لیے تیار ہے۔