بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی؛ امریکی سی آئی اے کے سابق افسر اور سیاسی و عسکری امور کے تجزیہ کار لیری جانسن نے کہا:
• امریکی حکام نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی رابطوں سے حاصل کردہ معلومات پر انحصار کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران 'اپنی جوہری سائنس و صلاحیت محفوظ رکھنے کے بارے میں مکمل طور پر سنجیدہ ہے۔
• امریکہ کی تخمیناتی خطا ایران کی زیر زمین تنصیبات کی وسعت اور گہرائی کے بارے میں، مذکورہ سنجیدگی کے ساتھ مل کر، واشنگٹن کے ایران کی 'تسدیدی طاقت' کے بارے میں اندازوں اور تخمینوں کو دوبارہ ترتیب دینے کا سبب بنی ہے، اور ٹرمپ جنگ بڑھانے یا دباؤ ڈالنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے زیادہ "خوف اور احترام" کے ساتھ بات کرتا ہے۔
* 'ایران کی سنجیدگی' کے نتیجے میں واشنگٹن کے اندازے اور تخمینے تبدیل ہو گئے
• پاکستانی ذرائع سے موصولہ معلومات کی بنیاد پر، امریکی حکام تہران اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ انٹیلیجنس ٹریکنگ کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران جوہری معاملے میں 'مکمل طور پر سنجیدہ' ہے۔
• افزودہ یورینیم کے ذخائر، گہری زیر زمین تنصیبات اور ایران کی تمام جوہری صلاحیتوں کی درست نشاندہی کرنے سے مغرب کی بے بسی پر مبنی رپورٹوں نے بھی امریکی حلقوں میں اس تشویش کو دو چند کر دیا ہے۔
* ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی یقیناً ایران میں ایک زبردست طاقت کی موجودگی کا نتیجہ ہے
• ایران کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لب و لہجے میں واضح تبدیلی، حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن کے اسٹراٹیجک اندازوں میں تبدیلی کا سب سے اہم ثبوت ہے۔
• ٹرمپ کچھ دیر پہلے تک مسلسل ایران کی مکمل تباہی، حملوں میں شدت اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی بات کرتا تھا، لیکن اس نے نہ صرف دھمکی آمیز لہجے سے دوری اختیار کی ہے، بلکہ اپنے عمومی بیانات میں ایران کے رہبر کا ذکر احترام کے ساتھ کرتا ہے، ایران کے جوابی حملوں کو کسی حد تک 'پچھلی [امریکی-اسرائیلی] اشتعال انگیزیوں کا ردعمل' قرار دیتا ہے اور مذاکرات کی کامیابی کے امکان پر مسلسل زور دیتا ہے۔
• میرے خیال میں یہ تبدیلی کوئی سفارتی حربہ نہیں ہے، بلکہ واشنگٹن میں یہ تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ ایران شاید ڈیٹرنس کی اس سطح پر پہنچ گیا ہے جو براہ راست تصادم کی امریکی پالیسی کو بہت زیادہ پرخطر اور بہت مہنگا بنا دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ