24 مئی 2026 - 17:10
حصۂ اول | 7 اپریل 2026ع‍؛ ایرانی تہذیب کی بربادی کی ٹرمپی دھمکی / امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا عالمی رجحان

ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اکتوبر سنہ 2026ع‍ اس دھمکی کے بعد کہ "اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہؤا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، جس کی وجہ سے یورپی دارالحکومتوں سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر گھبراہٹ اور ہراسانی کی لہر دوڑ گئی اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے بھی یورپی سفارت کاروں کی پیروی کے جواب میں ٹرمپ کے کی دھمکی کی نوعیت اور اس کے اگلے عزائم سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 اکتوبر سنہ 2026ع‍ اس دھمکی کے بعد کہ "اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہؤا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، جس کی وجہ سے یورپی دارالحکومتوں سمیت دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر گھبراہٹ اور ہراسانی کی لہر دوڑ گئی اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے بھی یورپی سفارت کاروں کی پیروی کے جواب میں ٹرمپ کے کی دھمکی کی نوعیت اور اس کے اگلے عزائم سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

رویٹرز نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ جنگ کے آخری دن جب ٹرمپ نے دھمکی دی کہ "اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہؤا تو آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، یورپی دارالحکومتوں میں وسیع پیمانے پر گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی تھی۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق، ٹرمپ کی ان بکواسات کے بعد، ایک یورپی حکومت نے فوری طور پر واشنگٹن میں اپنے سفارت کاروں سے یہ سوال پوچھا کہ "کیا امریکہ جوہری ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے؟"

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی حکام نے جواب حاصل کرنے کے لئے امریکی محکمہ خارجہ سے رجوع کیا، انہیں توقع کی کہ امریکی روایتی سفارتی ذرائع سے اطمینان بخش پیغام ملے گا۔ لیکن ایک یورپی سفارت کار کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے تسلیم کیا کہ انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ ٹرمپ کی دھمکی کا کیا مطلب ہے اور بعد میں کیا ہو سکتا ہے۔

تفصیلی رپورٹ:

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، اس کے ذاتی ایلچی اور کمزور کئے ہوئے (Diluted) امریکی سفارت خانے واشنگٹن کے عالمی کردار کو نئے سرے سے متعین کر رہی ہیں۔ امریکہ کے اتحادی ـ یورپ سے لے کر ایشیا تک ـ اس ملک کے ساتھ تعامل کے قواعد نئے سرے سے لکھ رہے ہیں؛ وہ امریکی صدر کے باتونی پن کو نظر انداز کر رہے ہیں اور نئے سفارتی چینلز بنا رہے ہیں تاکہ اپنے تئین امریکی خارجہ پالیسیوں کا انتظام و انصرام کر سکیں؛ ایسی پالیسی جو پہلے سے کہيں زیادہ، اداروں کے بجائے افراد اور کرداروں پر استوار ہو رہی ہے۔

ٹرمپ کی آخرالزمانی دھمکی

جب 7 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ "آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی"، تو واشنگٹن میں ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ اس کی حکومت ایک خوفناک سوال کا فوری جواب چاہتی تھی: کیا امریکی صدر جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے؟

پورے یورپ اور ایشیا میں، تشویش اس بات سے کہیں بڑھ کر تھی کہ کیا ٹرمپ کی آخرالزمانی ((Apocalyptic)) دھمکی کو حقیقی سمجھا جائے یا یہ بس ایک ڈینگ ہے؟ اس سفارت کار کے مطابق، ایک تشویش یہ تھی کہ کہیں روس اس موقع سے فائدہ لے کر لے کر یوکرین کے بارے میں اپنی اسی طرح کی دھمکیوں کے لئے جواز فراہم کر لے اور دو براعظموں میں جوہری بحران پیدا کر دے۔

یورپی حکومتوں نے فوری طور پر ایک روایتی چینل کے ذریعے یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی: ریاستہائے متحدہ امریکہ کی وزارت خارجہ۔ تاہم، اس سفارت کار کے مطابق، وہاں کے حکام نے ایک پریشان کن جواب دیا: وہ [امریکی حکام] نہیں جانتے تھے کہ ٹرمپ کی دھمکی کہ درست مطلب کیا ہے یا اس کی باتیں کن کن نتائج پر منتج ہو سکتے ہیں؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

حصۂ اول | 7 اپریل 2026ع‍؛ ایرانی تہذیب کی بربادی کی ٹرمپی دھمکی / امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا عالمی رجحان

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha