17 اپریل 2026 - 16:08
لبنان میں جنگ بندی اور نیتن یاہو کی شکست پر رد عمل

سابق صہیونی وزیر نے کہا: "ایران کے ساتھ جنگ کا مقصد حکومت کو گرانا تھا اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ،کا مقصد اسے غیر مسلح کرنا تھا۔ یہ مقاصد حاصل نہيں ہوئے۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یہ جنگ بندی اسلامی جمہوریہ ایران کی فعال سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ ایران نے 40 روزہ جنگ کے آغاز ہی سے "میدان جنگ - سفارتکاری" کے امتزاج سے ایک توازن قائم کیا جس کی وجہ سے جنگ کا دوام دشمن کے لئے مہنگا پڑ رہا ہے اور اسے فرسودہ کر رہا ہے۔ عملی میدان میں یہ توازن، محاذ مقاومت کے ڈیٹرنس کے استحکام کے ذریعے حاصل ہؤا۔

صہیونی ریاست کے طفل کُش وزیر اعظم کی دوٹوک مخالفت کے باوجود، لبنان میں کل رات سے اسرائیل اور اسلامی مقاومت کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہؤا۔

انصار اللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی اور ایران کی مسلح افواج کی دو ٹوک دھمکی نیز حزب اللہ لبنان کے تابڑ توڑ حملوں نے صہیونی ریاست کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اس تاریخی-تزویراتی شکست کا ردعمل

- لبنانی رکن پارلیمان "حسن فضل اللہ" نے کہا: لبنان میں جنگ بندی، پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ پر ایران کے دباؤ کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔۔ امریکہ کو پابند بنایا گیا کہ جنگ بندی کا فیصلہ صہیونی اہلکاروں اور لبنانی صدر تک پہنچا دے۔ ایرانی اہلکار امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی پابندی کی نگرانی کریں گے۔"

- صہیونی ذرائع: "لبنان میں جنگ بندی، ایران کے مقابلے میں ٹرمپ کی دوبارہ پسپائی ہے۔"

- المیادین نیٹ ورک: "حزب اللہ کے ساتھ ہم آہنگی اور ایران کی تاکید و اصرار کے بعد، لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہؤا۔

صہیونی ریاست، ٹرمپ سے سخت ناراض ہے اس لئے کہ ایران کے جنگ بندی کے مطالبے پر پسپا ہو گیا اور ایران کے سامنے ہاتھ اٹھا لئے۔"

- صہیونی ریاست کے سابق وزیر خارجہ "آویگدور لیبرمین Avigdor Lieberman" نے ـ اس سوال کے جواب میں کہ "کیا اسرائیل اس جنگ میں فاتح ہؤآ؟"، ـ  کہا: جو فاتح ہوتا ہے یہ سوال اس سے نہیں پوچھا جاتا۔ ایران کے ساتھ جنگ کا مقصد حکومت کو گرانا تھا اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ، اسے غیر مسلح کرنا تھا۔ یہ مقاصد حاصل نہيں ہوئے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha