بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی تازہ ترین رپورٹ اور امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کی پیش گوئیوں کے مطابق، آنے والی دہائی میں قرضوں پر سود کی ادائیگی پر امریکی حکومت کے اخراجات غیر معمولی سطح پر پہنچ جائیں گے۔
بلومبرگ کے مطابق، یہ رجحان عوامی بجٹ پر شدید دباؤ ڈالے گا اور وہ منظرنامہ دوبارہ سامنے آئے گا جس کو ماہرین نے "گردابِ ہلاکت" کہتے ہیں۔ ایسی صورت حال جہاں 'قرضے' اور 'سود میں اضافہ' ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔
سود کی لاگت دوگنا ہو کر 2 ٹریلین ڈالر ہو جائے گی
تخمینوں کے مطابق، امریکی حکومت فی الحال سالانہ تقریباً ایک کھرب ڈالر اپنے قرضوں پر سود ادا کرنے پر خرچ کرتی ہے اور یہ رقم 2036 تک بڑھ کر دو کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ یہ مقدار اُس سال امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 4.6 فیصد کے برابر ہوگی۔
بلومبرگ زور دے کر کہتا ہے کہ یہ رقم بھی متوقعہ بجٹ خسارے کا صرف ایک بڑے حصے کو تشکیل دیتی ہے اور اس ہدف سے کہیں زیادہ ہے جو حکومت نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے مقرر کیا تھا۔ سادہ الفاظ میں، امریکی بجٹ خسارے کا بڑا حصہ مستقبل میں ماضی کے قرضوں پر سود ادا کرنے پر صرف ہوگا، نہ کہ نئے اخراجات اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر۔
"گردابِ ہلاکت" کا منظرنامہ
ایسی صورت حال میں، سرمایہ کار حکومتی قرضوں کے سرٹیفکیٹ خریدنے کے لئے زیادہ شرح سود کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ معاملہ حکومت کو مجبور کرتا ہے کہ وہ زیادہ سود ادا کرنے کے لئے نیا قرضہ جاری کر دے۔ یہ خود کو تقویت دینے والا چکر، وہی ہے جسے ماہرین "گردابِ ہلاکت" کہتے ہیں۔
خزانے کے سرٹیفکیٹ پر سود کی شرح اب بھی سرکار کے کنٹرول میں
اس خطرے کے باوجود، کانگریس کے بجٹ آفس نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی حکومت کے 10 سالہ سرٹیفکیٹ پر سود کی شرح موجودہ سال کے 4.1 فیصد سے بڑھ کر 2036 میں 4.4 فیصد ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق، یہ اضافہ بہت کم اور قابل انتظام ہے اور اس پر شدید تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔
کانگریس بجٹ آفس کے ڈائریکٹر فلپ سواگیل (Phillip Swagel) کہتے ہیں کہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ ہونے والی بڑی آبادی شرح سود پر دباؤ کو کچھ حد تک کم کر سکتی ہے، کیونکہ بزرگ افراد عموماً کم خطرے والی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں مشہور امریکی سرمایہ کاری بینک کے ماہرین کا خیال ہے کہ خزانے کے سرٹیفکیٹس محفوظ ہیں جبکہ سرمایہ کاری کے متبادل مواقع بہت کم ہیں چنانچہ ان سرٹیفکیٹس کی مانگ برقرار رہے گی اور شرح سود بہت زیادہ نہیں بڑھے گی۔
ایک انتباہ: اگلی حکومتوں کے اختیارات محدود ہونگے
اس کے باوجود، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قرضوں کا بہت زیادہ حجم اور اس میں مسلسل اضافہ مستقبل کی امریکی حکومتوں کے مالیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے اختیارات کو محدود کر سکتا ہے۔ چیف اکانومسٹ جم ریڈ (Jim Reid) کا کہنا ہے کہ امریکہ کو دس سالہ سرٹیفکیٹ کی شرح سود کم کرنے کے لئے اپنے بینکاری قوانین اور مالیاتی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑ سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محترمہ الہام مؤذنی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ