29 جنوری 2026 - 19:24
حصۂ دوئم | عرب - مسلم دنیا کے رہنما ٹرمپ کے ترکش کے سپاہی / وہ جب چاہیں یہ حرکت میں آتے ہیں

ٹرمپ توہین پر توہین بڑھانے کا سلسلہ کبھی نہیں بھولے؛ جب انھوں نے انکشاف کیا کہ عرب حکمرانوں اور سیاست دانوں نے اس کے منصوبے کو برکت دی ہے!! اور اس کے لئے اطاعت و فرمانبرداری کے دروازے کھول دیے ہیں!! اب وہ ان کے بارے میں اس طرح بولتے ہیں جیسے وہ ان کے ترکش کے سپاہی ہوں، ان کے ہاتھ میں تاش کے پتے، جنہیں وہ اپنی مرضی سے حرکت دے سکتے ہیں جبکہ وہ خود حرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت نیوز ایجنسی (ABNA) کے مطابق، سرکش ٹرمپ اپنے متکبر چہرے اور اپنی مغرور زبان کے ساتھ دنیا کے سامنے اس طرح پیش ہوئے کہ گویا وہ جدید دور کے فرعون ہیں، کرداروں کی تقسیم کرتے ہیں اور خون و آگ کے نقشے اپنی مرضی سے کھینچتے ہیں۔۔۔

ٹرمپ کے منصوبے کا خلاصہ یہ ہے:

·       "اسرائیلی ادارے فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم پر انعام و اکرام سے نوازنا۔

·       عرب اور اسلامی ممالک کو ابراہیم معاہدے کے تابع کرنا، جو اسلام کے خلاف برسر پیکار ہے اور اسرائیل کو خطے پر مسلط کرتا ہے۔

یہ کسی بھی طرح سے فلسطینیوں کے حقوق کی ضمانت نہیں دیتا۔ یہ مقاومت کو تنہا کر دے گا، اور فلسطین کے لئے عالمی حمایت کو اور یکجہتی اسرائیلی دشمن کے خلاف عالمی غصے کو فلسطین سے ناراضگی میں بدل دے گا۔ یہ منصوبہ قتل عام کے جاری رہنے کی ضمانت دیتا ہے جبکہ اسرائیلی دشمن کو اس قتل عام سے بری الذمہ قرار دیتا ہے اور مقاومتی تحریکوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ یا ہتھیار ڈالنا اور مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا۔  

ٹرمپ کے منصوبے میں صرف ایک چیز نئی ہے اور وہ یہ کہ ترکیہ، قطر، اردن، سعودی عرب، پاکستان، انڈونیشیا، مصر، اور متحدہ عرب امارات کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ حماس اور مقاومتی تحریکوں کا خاتمہ کریں جبکہ یہ ممالک کئی عشروں سے فلسطینی کاز کی حمایت سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کام چوری کی ہے اور اب اس نام نہاد بین الاقوامی عہد کی پابندی پر فخر کر رہے ہیں۔

ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے انتہائی ذلت آمیز بیان جاری کیا اتنا ذلت آمیز کہ جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا: انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "قیادت" کی تعریف کی، ان کوششوں کو غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لئے "مخلصانہ" قرار دیا، اور امن کا راستہ تلاش کرنے کے سلسلے میں ان کی صلاحیت پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا۔ کیا۔ ہم ان ممالک سے پوچھتے ہیں کہ غزہ کو تباہ کرنے اور غزہ کے عوام کی نسل کشی اور اجتماعی قتل کے لئے مہلک بم اور تباہ کن ہتھیار کی ترسیل غزہ میں جنگ کے خاتمے کی مخلصانہ کوشش ہے؟ یہ سراسر بے شرمی اور  بے حیائی ہے۔

ان ممالک نے ڈھٹائی اور بدتمیزی سے امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت کا اعلان کیا جسے اس چیز میں جسے وہ "خطے میں امن کو مستحکم کرنا" کہتے ہیں۔ انہوں نے مزید آگے بڑھتے ہوئے معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعاون کرنے کی اپنی رضامندی کی تصدیق کی۔

جنگی مجرم نیتن یاہو نے عرب اور اسلامی ممالک کے مشن کا خلاصہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی، عرب اور اسلامی دباؤ اب حماس پر مرکوز ہو چکا ہے کہ ان شرائط کو تسلیم کرے جنہیں "اسرائیل" اور امریکہ نے ساتھ مل کر طے کیا ہے۔

غزہ کبھی ٹوٹتا نہیں ہے

امریکی منصوبے کے جواب میں ـ اور اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کے دفاع اور اسرائیلی دشمن کا مقابلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ کسی بھی صورت میں سودے بازی اور بلیک میلنگ کے آگے سر تسلیم خم نہیں کر سکتے، ـ فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل کمانڈر زیاد النخالہ نے کہا کہ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کہ "امریکی اسرائیل معاہدہ، اسرائیل کے پورے موقف کا اظہار، اور فلسطینی عوام کے خلاف مسلسل جارحیت کا ایک نسخہ ہے؛ اس طرح اسرائیل، امریکہ کے ذریعے، وہ کچھ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ جنگ کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی لئے ہم امریکی اسرائیلی اعلان کو خطے میں دھماکے کی ایک ترکیب سمجھتے ہیں۔"

فلسطینی مقاومتی کمیٹیوں کے سیکرٹری جنرل "ایمن الششنیہ" نے بھی واضح کیا کہ "ٹرمپ کا منصوبہ صیہونی وجود کے مطالبات اور اس کے توسیع پسندانہ آبادکاری کے منصوبے کو مکمل طور پر جاری رکھنے اور فلسطینی کاز کو ختم کرنے کے نیتن یاہو کے خواب کی تعبیر ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ "امریکی منصوبہ غزہ کی پٹی کو نوآبادیاتی، سرمایہ کاری اور سلامتی کے تصور کے مطابق مرتب اور منظم کرنے کی کوشش ہے جس کا بنیادی اور حتمی ہدف صہیونی وجود کو موجودہ تنہائی سے بچانا اور معمول سازی (Normalization) کا سلسلہ جاری رکھنا اور ابراہیم معاہدے کی بحالی کے لئے "عرب-صیہونی علاقائی اتحادوں کو فروغ دینا ہے۔"

انھوں نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کے مسلط کردہ منصوبے کا بنیادی ہدف بین الاقوامی نگرانی میں مسلح مقاومت کو مکمل طور پر ختم کرنا اور غزہ کو مغربی کنارے سے الگ کرکے، فلسطینی علاقوں کے درمیان جبری تقسیم کو برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ صیہونی ادارہ اور امریکی انتظامیہ جنگ اور نسل کشی کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے، ٹرمپ اب وہی کچھ صہیونی سیاسی حل کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسا کبھی نہیں ہو گا۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ اس منصوبے کی بین الاقوامی توثیق صہیونی وجود کی تنہائی کو توڑنے اور مظلوم کی گردن پر چھری رکھنے کے عمل میں براہ راست شریک  ہے۔

ادھر پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (PFLP) نے اس بات پر زور دیا کہ "ٹرمپ کا منصوبہ، ـ جو غزہ پر اپنی جنگ کے ذریعے نیتن یاہو کے سیاسی اہداف کو حاصل کرتا ہے، لہٰذا منصوبے کے شقوں میں جو ابہام ہے، اس کے ساتھ نہایت احتیاط کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے، اور یہ تعامل اعلیٰ قومی مفاد کے موقف کے موافق ہونا چاہئے جو فلسطینی عوام کی عظیم قربانیوں، صبر اور استقامت کے تقاضوں کو مد نظر رکھے۔"

فرنٹ نے کہا: "جبهہ نے کہا: 'ہم سمجھتے ہیں کہ عرب و اسلامی منظرنامے اور فلسطینی داخلی منظرنامے کی پیچیدگیاں، اپنے تمام منفی پہلوؤں کے ساتھ، مزاحمت کے موقف پر اپنے گہرے اثرات مرتب رہی ہیں۔ اس تاریخی موقع پر، ہر سطح پر ایک قومی موقف اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جو عوامی بنیادوں پر استوار ہو، تاکہ مزاحمت کی کامیابیوں اور اس کے کردار کی حفاظت کی جا سکے، اور قومی صورت حال کو ہر قسم کی دراندازیوں، تنگ نظری پر مبنی آوازوں اور کمزور موقف رکھنے والوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔'"

فلسطین کی تحریک احرار نے وضاحت کی کہ ٹرمپ کا منصوبہ ـ جنگی مجرم اور بین الاقوامی عدالت انصاف کو مطلوب "نیتن یاہو" کے سامنے ـ ایسے لوگوں کے ہتھیار ڈالنے اور تسلیم ہونے کا واضح مطالبہ ہے جن کی زمین پر دشمن نے قبضہ کر لیا ہے اور جن کے خلاف تمام جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

تحریک احرار نے اس بات کی نشاندہی کی: "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ میں جنگ کو روکنے کے اپنے منصوبے کی مارکیٹنگ ہمارے لوگوں کے لئے جنگ کی لعنت سے واحد محفوظ پناہ گاہ ہے، ان دھمکیوں کے ساتھ کہ اگر فلسطینی مذاکرات کار اس منصوبے کو مسترد کرے تو فلسطینیوں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی! چنانچہ یہ تمام وعدے  تشہیری شور و غوغا کے سوا کچھ نہیں ہیں جو ان [ٹرمپ] کی نرگسیت میں گونج رہے ہیں اور صہیونی ریاست اور اس کے سرغنوں کی طرف ان [ٹرمپ] کے مکمل جھکاؤ اور جانبداری کی تصدیق کرتے ہیں۔"

تحریک نے زور دے کر کہا: "اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ نے جو تجویز پیش کی وہ فلسطینی عوام کے ہتھیار ڈالنے اور جنگی مجرم نیتن یاہو اور اس کی حکومت کو بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی سے بچانے کے لئے، آگے بڑھنے، کا منصوبہ ہے۔ فلسطینی عوام اس قسم کے جھوٹ اور صہیو-امریکیوں کے تمام منصوبوں اور سازشوں کو مسترد کر دیں گے۔

اختتامی نکات:

ٹرمپ کی تقریر صرف گذرنے والے گفتگو نہیں ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے: ایک ظالم جابر جو عربوں اور مسلمانوں کا مذاق اڑا رہا ہے، ان کے ساتھ تابعدار اطاعت گذاروں کا سلوک کرتا ہے، جب کہ مسلمانوں اور عربوں کے رہنما ان [ٹرمپ] سے خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لینے کے لئے دوڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی تابعداری کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ـ نادانستہ طور پر ـ اس سیاسی پستی کے جوہڑ کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں عرب حکمران دھنس چکے ہیں، اور ان گہری کھائیوں اور دراڑوں کو عیاں کر دیا ہے جو آزادی کے متوالے [عرب] عوام اور ان نظاموں کے درمیان موجود ہیں؛ اور یہ کہ ان کے بنیادی مسائل سودے بازی کے بازار میں بیچ دیا کرتے ہیں۔

یہ شرم کا زمانہ ہے۔ ایسا زمانہ جس میں غرور و تکبر کرنے والا فخر سے پھولتا ہے، اور کمزور ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ وہ زمانہ بھی ہے جب قومیں [بھی] اپنا فیصلہ سنانے کے لئے تیار ہو رہی ہیں، کیونکہ سرکشی چاہے جتنی بھی بلندیوں پر پہنچ جائے، آزادی کی مرضی کے سامنے زیادہ دیر جم نہیں سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

ابنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا، ضروری نہیں ہے۔

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha