اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کریملن نے سفارتی عمل کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔
اسی سلسلے میں روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو اب بھی اس مؤقف پر قائم ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کے راستے بند نہیں ہوئے اور تمام فریقوں کو طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف فوجی آپشن کا استعمال خطے میں افراتفری اور سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
دیمتری پیسکوف نے یہ بھی بتایا کہ ماسکو میں ولادیمیر پوٹن اور ابو محمد الجولانی کے درمیان ملاقات کے دوران شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل پر بھی مشاورت کی گئی۔
آپ کا تبصرہ