اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے یہ بات آرمی کی کمانڈ اینڈ اسٹاف یونیورسٹی کے 86ویں کورس کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے موجودہ عالمی دور کو ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر سلامتی کے سنگین چیلنجز پیدا کیے ہیں، جس کے نتیجے میں عدم استحکام اور بے امنی میں اضافہ ہوا ہے۔
میجر جنرل حاتمی نے سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور اسرائیلی ریاست کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب مغربی ایشیا میں عالمی طاقتوں کے منصوبوں کا حصہ تھے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان کی یاد دہانی کرائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل موجود نہ ہوتا تو اسے قائم کرنا پڑتا۔ حاتمی نے کہا کہ یہ بیان ان لوگوں کے لیے واضح جواب ہے جو پوچھتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کے جرائم کے باوجود اس کی حمایت کیوں کرتا ہے، کیونکہ اسرائیل مغرب کے لیے ایک پراکسی اڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔
بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ ایران کی جغرافیائی حیثیت اور اسلامی انقلاب کے اصولوں نے ملک کی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جبکہ دشمن ان ہی صلاحیتوں اور قومی طاقت کے ذرائع کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن کی حیثیت سے جنرل حاتمی نے کہا کہ ایران کی طاقت کے دو بنیادی ستون عوام اور اسلامی انقلاب کے رہبر ہیں اور دشمنوں کی سب سے زیادہ دشمنی انہی دو ستونوں سے ہے۔
انہوں نے حالیہ معاشی مسائل سے متعلق عوامی احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج امریکی صدر یا اسرائیلی وزیر اعظم سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ انہوں نے عوام کے طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا، شرپسند عناصر سے خود کو الگ رکھا اور امریکا و اسرائیل کے مطلوبہ ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ انہوں نے قوم کی عزت، صبر، بیداری اور بصیرت کو باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سپاہی کی حیثیت سے اس قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔
جنرل حاتمی نے مزید کہا کہ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کی بری فوج، پاسداران انقلاب، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکیورٹی فورسز، عوام اور سپریم کمانڈر نے مل کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجوہات کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ دشمن کے آئندہ منصوبوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بری فوج اپنے واضح اہداف کے مطابق مسلسل اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے اور کسی لمحے بھی غفلت نہیں برتی گئی۔
دشمنی پر مبنی بیانات اور ایران کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل حاتمی نے کہا کہ آج ایران کی مسلح افواج کی تیاری جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی دشمن کی غلط فہمی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور کسی بھی جارح کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دشمنی پر مبنی بیانیے کو ایک سنگین خطرہ سمجھتا ہے اور اسے جاری رہنے نہیں دے گا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے دور رس نتائج ہوں گے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج پوری طاقت کے ساتھ ملک کی آزادی، جغرافیائی سالمیت اور نظام کے دفاع کے لیے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جائے گی اور کہا کہ وہ فخر کے ساتھ خود کو قوم کا فدائی سمجھتے ہیں اور ملک کے کسی بھی کونے میں حتیٰ کہ ایک دن کے نومولود بچے کے لیے بھی جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔
آپ کا تبصرہ