8 جنوری 2026 - 18:49
ایران، ٹرمپ کے منہ سے بڑا لقمہ ہے؛ الجزیرہ کا وائٹ ہاؤس کو انتباہ

وینزویلا میں مداخلت امریکہ کی مطلق طاقت کے بجائے اس کی "طاقت کی محدودیتوں کو نمایاں [اور اس کے کمزور نقطوں کی نشاندہی]" کرتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے ایک تجزیے میں ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں اور وینزویلا پر حالیہ امریکی جارحیت کا موازنہ پیش کیا ہے۔

الجزیرہ کا موقف ہے کہ واشنگٹن کی وینزویلا میں حکومت تبدیل کرنے میں کامیابی کے باوجود، "کراکاس والی ترکیب" تہران میں کام نہیں آتی عمل نہیں ہے۔

رپورٹ حالیہ واقعات کی یاد دہانی سے شروع ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکیوں کے صرف 24 گھنٹے بعد، امریکی خصوصی افواج نے ایک کراکاس پر حملہ کیا اور نکولس مادورو کو ان کے گھر سے اغوا کرکے  مقدمہ چلانے کے لئے نیویارک میں لے گئیں۔

الجزیرہ لکھتا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام ایران کے لئے سنجیدہ پیغام کا حامل تھا، لیکن اس کی کامیابی وینزویلا کی خاص صورتحال کے مرہونِ منت تھی: "شکست و ریخت سے دوچار فوج، اور مادورو کے قریبی حلقوں میں سی آئی اے کا وسیع پیمانے پر اثر و رسوخ۔"

ایران کیوں 'وینزویلا" نہیں ہے؟

الجزیرہ کا استدلال ہے کہ ایران "ایک مضبوط فوجی ڈھانچے" کا مالک ہے جو کراکاس کے منظر نامے کے تہران میں دہرائے جانے کو ناممکن بنادیتا ہے۔

الجزیرہ اپنی اس دلیل کے ثبوت کے لئے 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ ایران نے اس بحران میں اپنی پائیداری اور استحکام کا ثبوت دیا۔

الجزیرہ کے تجزیئے کے متن کے ایک حصے میں بیان ہؤا ہے: "اسرائیل کے اچانک حملوں کے باوجود، جن کے نتیجے میں سپاہ پاسداران کے کچھ اہم کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا کيا، ـ اور اعلیٰ عہدیداروں کو بھگانے کی نفسیاتی جنگ کے باوجود، اسلامی جمہوریہ متزلزل نہیں ہوئی۔"

الجزیرہ لکھتا ہے: "یہاں تک کہ زیر زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے امریکہ کے بنکر-بسٹر بموں کے استعمال سے بھی سیاسی نظام کا استحکام متزلزل نہ ہو سکا۔"

الجزیرہ کا لکھاری زور دے کر کہا ہے: "ایران سینکڑوں بیلسٹک میزائل داغے اور "آئرن ڈوم" جیسی دفاعی پرتوں کو عبور کرنے کی صلاحیت ایسی طاقت کی نشاندہی کرتی ہے جو اس ملک پر حملے کو امریکہ کے لئے "ایجنڈے سے باہر" بنا دیتی ہے۔

ایران کی مسلح افواج کا فرق

الجزیرہ کے اہم دلائل میں سے ایک ایران اور وینزویلا کی فوجی طاقت کے ڈھانچے کے مابین فرق کی طرف اشارہ ہے۔ ایران کی فوج نہ صرف خطے کی سب سے بڑی طاقت ہے، بلکہ سپاہ پاسداران بھی اس کے ساتھ ہے، ایسا ادارہ جو فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی شاہ رگوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

چنانچہ، وینزویلا کی فوج کے برعکس، یہاں "منظم بکھراؤ" کا کوئی امکان نہیں ہے جو حکومت کے گرنے کا باعث بن سکے۔

یہاں داخلی اور بین الاقوامی محاذوں پر تعطل نہیں

ایران کے اندرونی احتجاج کے بارے میں الجزیرہ کا نقطہ نظر مختلف ہے اور لکھتا ہے: "اگرچہ ایران نے حالیہ دنوں میں وسیع پیمانے پر مظاہرے دیکھے ہیں، لیکن واشنگٹن کو اسے قریب الوقوع انہدام کا اشارہ نہیں سمجھنا چاہئے۔

الجزیرہ کا لکھاری کا کہا ہے: "تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی جارحیت معاشروں کو اتحاد اور یکجہتی کی طرف راغب کرتی ہے نہ کہ منتشر کرنے کی طرف۔ یہ حقیقت سنہ 2025 کے موسم گرما میں بالکل عیاں ہو گئی، جب ایرانیوں نے اپنی حکومت کے خلاف اسرائیلی محرکات کے دھوکے میں آنے سے انکار کر دیا۔"

الجزیرہ لکھتا ہے"دوسری جانب، ایران کی بین الاقوامی پوزیشن بھی وینزویلا سے مختلف ہے۔ روس اور چین ایران کو اپنا بڑا اسٹریٹجیک پارٹنر سمجھتے ہیں اور بہت ہی بعید ہے کہ اسے امریکہ کے خلاف تنہا چھوڑدیں۔"

الجزیرہ کے تجزیہ کار نے پیش گوئی کی ہے کہ "یہ دونوں طاقتیں تہران پر اپنی انٹیلی جنس اور سیاسی حمایت کی چھتری قائم رکھیں گی۔"

آخری بات: ٹرمپ کی محدود طاقت

آخر میں، الجزیرہ کا تجزیہ ایک انتباہی نتیجے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ وینزویلا میں مداخلت، امریکہ کی مطلق طاقت ثابت کرنے کے بجائے، "اس کی طاقت کی حدود کی نشاندہی" کرتی ہے۔ وہ اپنے اختتامی جملوں میں صاف لہجے میں لکھتا ہے:

"ٹرمپ اور اس کے جنرل ان رہنماؤں کو ختم کر سکتے ہیں جن کے ممالک وینزویلا کی طرح اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں؛ جبکہ وہ ایران جیسے پیچیدہ ملک پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے یا اس میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔ بلا شبہ اگر ٹرمپ ایسا ہی منصوبہ یہاں بھی نافذ کرنا چاہیں تو یہ خطے میں وسیع پیمانے پر افراتفری اور ناقابل برداشت خونریزی کا باعث بنے گا اور ایسا ممکنہ منصوبہ عراق کے تجربے سے کہیں زیادہ شدید، طویل المدت اور تباہ کن ہوگا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha