بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سوشل میڈیا نیٹ ورک "ایکس X" کے سرگرم صارفین نے تہران میں خطے کی سلامتی اور استحکام کے بارے میں منعقدہ ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے چار فریقی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایران کی طاقت قرار دیا اور لکھا کہ ایران اپنی اور پورے خطے کی سلامتی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گذشتہ روز سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ابراہیم کالین تہران پہنچنے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی کی سربراہی میں ایک اجلاس میں شرکت کی۔
اب غیر ملکی صارفین کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ایران کی مزاحمت نے خطے کے ممالک پر ثابت کر دیا ہے کہ اگر حقیقی استحکام اور سلامتی چاہتے ہیں تو انہیں ایران کے ساتھ اتحاد میں تلاش کرنا ہوگا۔
بیرونی صارفین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر تہران نے عملی طور پر اپنی طاقت ثابت نہ کی ہوتی تو ان میں سے کوئی بھی ملک ایسے اجلاس میں شرکت پر آمادہ نہ ہوتا۔
دیکھئے صارفین کیا کہتے ہیں؟:
• یا تو ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دو، یا صیہونیوں کے ساتھ تباہ ہو جاؤ؛ یہی ان کے پاس واحد آپشن ہے۔

• مجھے امید ہے کہ "مکہ اتحاد" "تہران اتحاد" میں تبدیل ہو جائے گا اور سب مل کر امریکہ، اسرائیل اور مغرب کے خلاف متحد ہو جائیں گے — جو خطے میں اس ساری گندگی کی جڑ ہیں۔

• اگر ایرانیوں نے ثابت نہ کیا ہوتا کہ وہ خطے کی سپر پاور ہیں، تو یہ خائن کبھی مذاکرات کے لئے ان کے پاس نہ آتے۔

• پہلے قطر، اور اب سعودی عرب؛ سب ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔

• سعودی بالآخر سمجھ گئے؛ وہ جان گئے کہ حقیقی طاقت کہاں ہے۔

• ایران زندہ باد!
اس طاقت، قیادت اور مقام و منزلت سے لطف اندوز ہوں جو آپ نے حاصل کی ہے اور حکمت و تدبر کے ساتھ مغربی ایشیا کی قیادت کریں۔

• وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ "بالادست طاقت" کون ہے؛ اگرچہ وہ اس حقیقت سے نفرت کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے۔

• سعودی عرب بالآخر جان گیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی سب سے کمزور کڑی ہے، اور وہ اپنی حماقت کو بھانپ گیا۔ ایران پھر بھی خطے کی طاقتور ترین اور ذہین ترین تہذیب کے طور پر ابھرا ہے۔

• اگر آپ ایران کو شکست نہیں دے سکتے ہو تو اس سے جا ملو۔ ایران مشرق وسطیٰ کا بلا مقابلہ اور ناقابل شکست چیمپئن ہے؛ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اگر آپ مزاحمت کرنا چاہتے ہیں تو کریں، لیکن بالآخر آپ ہی ہاریں گے۔

• یہ ایران کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
یہ دیکھ کر کہ کیسے ایران ـ ایک ایسی قوم جو بہادر بھی ہے اور ثابت قدم بھی ـ نے امریکہ جیسی بے رحم طاقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، عرب حکمران جان گئے کہ لڑائی کے لئے جنگي طیاروں سے زیادہ ہمت و شجاعت کی ضرورت ہوتی ہے۔

• ایران نے تمام پیش گوئیوں اور رکاوٹوں کے برعکس ایک علاقائی طاقت بن گیا ہے۔

• لگتا ہے کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی کا دور ختم ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں ان کے چھوٹے اتحادی کے لئے بھی بہت بری ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ