27 اکتوبر 2026 - 16:31
پزشکیان: امریکا اور صیہونی حکومت کی ایران پر جارحیت سے عالمی توانائی اور معیشت کو خطرہ لاحق ہے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور صیہونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت، یک طرفہ پابندیوں اور بحری و فضائی محاصرے نے عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے گیس برآمد کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کی مذمت کریں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو درپیش خطرات کا مؤثر مقابلہ کریں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور یک طرفہ اقدامات عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے منڈیوں کے خطرات کم کرنے اور توانائی کی طلب و رسد کے تحفظ کے لیے رکن ممالک کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی صدر نے یک طرفہ پابندیوں اور خطے میں امریکی فوجی مداخلت کو توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اہم عوامل قرار دیا۔ انہوں نے توانائی کی پیداوار، ترسیل اور قیمتوں کے تعین پر ان اقدامات کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی گیس منڈی کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کا مؤثر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

پزشکیان نے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کی اس صلاحیت پر بھی زور دیا کہ وہ کثیرالجہتی سفارت کاری کو فروغ دینے، تجربات کے تبادلے اور رکن ممالک کی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے قدرتی گیس کی پوری پیداواری زنجیر میں مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور علاقائی و عالمی سطح پر گیس کی تجارت کو وسعت دینے کو رکن ممالک کے درمیان تعاون کی اہم ترجیحات قرار دیا۔

ایرانی صدر نے قدرتی گیس کے وسیع ذخائر اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے ایران کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور گیس کی صنعت کے ابتدائی اور ثانوی مراحل سے متعلق منصوبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے ایرانی صدر کا مکمل خطاب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم جناب ولادیمیر پیوٹن، صدرِ روسی وفاق!

ماسکو کے خوب صورت اور تاریخی شہر میں موجودگی پر مجھے خوشی ہے۔ میں اس اہم اجلاس کی میزبانی پر دوست ملک روس کے عوام اور حکومت، بالخصوص آپ کا، دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ، فورم کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوششوں پر معزز سیکریٹری جنرل اور سیکریٹریٹ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس موقع پر میں اسلامی انقلاب کے شہید رہبر حضرت آیت اللہ خامنہ ای (رہ) کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے اپنے اقدامات اور حمایت کے ذریعے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

محترم صدر، شریک وفود کے سربراہان، خواتین و حضرات!

گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کا آٹھواں سربراہی اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے جب جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے عالمی توانائی کے تحفظ کو سنگین چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔

اس دوران، امریکا اور صیہونی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دو مرتبہ، سیاسی مذاکرات کے دوران، فوجی جارحیت عالمی سلامتی کے لیے افسوس ناک اور خطرناک واقعات میں سے ایک رہی ہے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں ہمارے ملک کی توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور توانائی کی ترسیل کا عمل متاثر ہوا، جس سے عالمی توانائی کے تحفظ اور معیشت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ ممالک پر یک طرفہ پابندیاں عائد کرنا اور امریکا کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بحری و فضائی محاصرے کی صورت میں معاشی دہشت گردی کرنا، نیز دوسرے ممالک پر اس محاصرے کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالنا، ایسے غیر قانونی اقدامات ہیں جنہوں نے توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ دنیا کے بڑے توانائی فراہم کرنے والے ممالک کو ان اقدامات کی مذمت اور ان کا مؤثر مقابلہ کرنا چاہیے۔

آج خلیج فارس کے خطے میں امریکی فوجی مداخلت صرف علاقائی فریقوں کو متاثر نہیں کرتی، بلکہ شدید جھٹکے پیدا کرکے توانائی کی قیمتوں کے تعین، رسد اور ترسیل کے عمل میں خلل ڈالتی ہے اور عالمی اقتصادی ترقی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

معزز سربراہان!

گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں گیس کے شعبے میں کثیرالجہتی سفارت کاری کی علامت اور رکن ممالک کے درمیان بات چیت، تجربات کے تبادلے اور تعاون کو مضبوط بنانے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہ فورم عالمی توانائی کے مسائل اور مشکلات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں فورم کے منشور اور سربراہی اجلاسوں کے اعلامیوں پر عمل درآمد خاص اہمیت رکھتا ہے، بالخصوص ٹیکنالوجی کی ترقی، ماحول دوست اور پائیدار انتظامی طریقوں کو فروغ دینے، علاقائی و عالمی گیس منڈیوں کو وسعت دینے، قدرتی گیس کے وسائل کو پیداواری زنجیر میں زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے اور توانائی کی غربت کے خاتمے کے حوالے سے۔

خواتین و حضرات!

عالمی توانائی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا تقاضا ہے کہ فورم کے رکن ممالک دو شعبوں میں اپنا تعاون بڑھائیں: حکمتِ عملی اور انتظامی امور اور تکنیکی و انجینئرنگ سرگرمیاں۔

حکمتِ عملی کے شعبے میں بنیادی توجہ منڈیوں کے استحکام اور علاقائی و عالمی سطح پر قدرتی گیس کی تجارت کا حجم بڑھانے کے طریقوں پر ہونی چاہیے۔

تکنیکی اور انجینئرنگ کے شعبے میں فورم کے ارکان کے لیے بنیادی اہمیت مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ہے، تاکہ قدرتی گیس کی پیداوار سے لے کر اس کی پروسیسنگ، ترسیل اور استعمال تک پوری پیداواری زنجیر میں تعاون بڑھایا جا سکے۔ اس کے ساتھ گیس کی پیداوار اور استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے اور ماحول پر اس کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کو ترقی دینا بھی مشترکہ تعاون کا اہم مرکز ہونا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ رکن ممالک کی موجودہ صلاحیتوں کو عملی منصوبوں اور مشترکہ مفادات میں تبدیل کیا جائے۔ فورم کی طویل مدتی حکمتِ عملی پر مؤثر عمل درآمد، منڈیوں میں تبدیلیوں اور مستقبل میں گیس کی رسد و طلب کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ارکان کی ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور عالمی توانائی کے مستقبل میں فورم کا کردار مضبوط بنانے کے لیے واضح راستہ فراہم کر سکتا ہے۔

معزز سربراہان!

اسلامی جمہوریہ ایران گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے بانی ارکان میں شامل ہے اور قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ایران فورم کے دائرے میں کثیرالجہتی سفارت کاری کو آگے بڑھانے، علم و تجربے کے تبادلے اور گیس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں کے مرکز میں ایران کا تزویراتی محلِ وقوع اسے عالمی سطح پر توانائی کے نظام کی مضبوطی اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے فطری طور پر اہم بناتا ہے۔

اس کے علاوہ، ایران کی گیس کی صنعت میں موجود صلاحیتیں فورم کے رکن ممالک کے نجی شعبوں کے لیے قدرتی گیس کی پیداوار، اس کی مزید تیاری و فراہمی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے موزوں مواقع فراہم کرتی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار بلاخوف تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل کی صنعتوں میں فراہم کی جانے والی مراعات اور سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے تحت ایران کی غیر معمولی صلاحیتوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ کئی سال کی یک طرفہ پابندیوں کے باوجود ہم نے اپنی مقامی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے قدرتی گیس کی سالانہ پیداوار کو 300 ارب مکعب میٹر تک پہنچایا ہے اور دنیا میں قدرتی گیس پیدا کرنے والے تیسرے بڑے ملک کا درجہ برقرار رکھا ہے۔

قدرتی گیس کے استعمال کے شعبے میں بھی ایران دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے، جہاں توانائی کے مجموعی استعمال میں گیس کا حصہ 70 فیصد ہے۔ اس وقت ایران کی 95 فیصد آبادی قومی قدرتی گیس نیٹ ورک سے منسلک ہے۔

محترم صدر، خواتین و حضرات!

ہمارا یقین ہے کہ تعمیری تعاون کے ذریعے گیس کی رسد اور طلب کے تحفظ، قدرتی گیس کی منصفانہ قیمتوں کے تعین اور ماحولیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی توانائی کے نظام میں اس کے کردار کو بڑھانے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے تیل و توانائی، فورم کے سیکریٹری جنرل اور سیکریٹریٹ کے عملے کی فعال شرکت اور ان کے درمیان تعمیری تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha