بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورہ بقرہ کی آیات 58 تا 61 ایک ایسی قوم کا قصہ بیان کرتی ہیں جس نے اللہ کی نعمتیں حاصل کرنے اور خدا کی قدرت کی نشانیاں دیکھنے کے بعد، شکرگزاری اور اطاعت کے بجائے نافرمانی اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا۔
تیسری اور آخری قسط:
جب عظیم نعمتیں معمولی بن جائیں!
آیت 61 (1) بنی اسرائیل کی ناشکری کے ایک اور مرحلے کا بیان کرتی ہے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا:
"لَنْ نَصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ"
ور جب [بنی اسرائیل] نے کہا: اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہیں کریں گے۔"
یعنی ہمارے لئے یہ کھانا ['من و سلویٰ'] مزید کافی نہیں ہے! پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ خدا سے درخواست کریں کہ انہیں سبزی، ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز جیسی چیزیں فراہم کر دے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں ان سے پوچھا:
"أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ؛
کیا تم اسے جو پست تر ہے، اس [من و سلویٰ سے بدل رہے ہو؟"
مسئلہ یہ نہیں تھا کہ سبزیاں یا زمین سے اگنے والی دوسری چیزیں بذات خود ناپسند ہے، بلکہ آیات کے سیاق میں بنی اسرائیل کا اپنے کھانے پر اعتراض اور اپنی خواہشات کو اس نعمت پر ترجیح دینا، لائق تنقید ٹہرا ہے جو ان کو اللہ نے عطا کی تھی۔ انہوں نے اللہ کے فراہم کردہ رزق کی قدردانی اور شکرگزاری کے بجائے نئی خواہشات پیش کرتے تھے اور جو کچھ ان کے پاس تھا، اس کی قدر و قیمت کو نظر انداز کرتے تھے۔
آیت کے تسلسل میں، خدائے متعال ان کی ذلت، مُفلِسی و تنگ دستی اور اللہ کے غضب میں مبتلا ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے اور اس انجام کی وجہ خدا کی آیات کا انکار، انبیاء (علیہم السلام) کا قتلِ ناحق، نافرمانی اور حد سے بڑھ جانا اور تجاوز کرنا، قرار دیتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے تلخ انجام کو محض متنوع کھانے کی درخواست سے منسوب نہیں کیا جا سکتا؛ بلکہ یہ آیت کریمہ اعتقادی اور عملی انحرافات کے ایک مجموعے کو اس صورتحال کے عوامل کے طور بیان کرتی ہے۔
سورہ بقرہ کی آیات 58 تا 61 ایک اہم حقیقت کی تصویر پیش کرتی ہیں: معجزہ، نعمت اور زندگی کے وسائل کا فراہم ہو جانا، بذات خود انسان کو فلاح و سعادت تک نہیں پہنچاتا۔ جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ شکرگزاری، عجز و انکسار، اطاعتِ حق اور فساد و برائی سے بچ کر رہنا ہے۔
وہ انسان جو بڑی نعمتوں کو معمولی سمجھتا ہے اور اپنی موجودہ چیزوں سے مسلسل ناراض رہتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ ترقی اور سعادت و فلاح کا موقع کھو دے، جیسے بنی اسرائیل کی ناشکری اور نافرمانی نے انہیں بہرہ وری اور سکون و آسائش کے راستے سے محرومی اور اللہ کے غضب کی طرف دھکیل دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ "وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نَصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ؛
اور جب [بنی اسرائیل] نے کہا: اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہیں کریں گے، لہٰذا اپنے پروردگار سے ہمارے لئے التجا کیجئے کہ وہ ہمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین سے اگتی ہیں [جیسے] ساگ، ککڑی، مسور اور پیاز۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ارے ایسی پست چیزیں تم بدل کر لیناچاہتے ہو۔ اس بہتر [طعام] کے بجائے؛ اچھا تو پھر کسی شہر میں جا کر اترو۔ وہاں تمہیں جو مانگتے وہ سب مل جائے گا۔ [تو یوں] ان پر ذلت اور محتاجی [کا ٹیکہ] [ان کی پیشانیوں پر] ثبت کیا گیا۔ اور وہ اللہ کے غضب میں مبتلا ہو گئے؛ اس لئے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کا برابر انکار کرتے تھے؛ اور پیغمبروں کو ناحق قتل کر ڈالتے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ برابر ظلم و تعدی [و تجاوز] سے کام لیتے تھے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ