23 اکتوبر 2026 - 22:58
دوسری قسط | بنی اسرائیل؛ ناشکری قوم جس نے اللہ کا غضب بھڑکایا

سورہ بقرہ ایک قوم کا واقعہ بیان کرتی ہے جس نے الٰہی معجزات دیکھنے اور بے شمار نعمتیں پانے کے باوجود ناشکری اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا اور آخرکار اللہ کے غضب میں مبتلا ہو گئی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورہ بقرہ کی آیات 58 تا 61 ایک ایسی قوم کا قصہ بیان کرتی ہیں جس نے اللہ کی نعمتیں حاصل کرنے اور خدا کی قدرت کی نشانیاں دیکھنے کے بعد، شکرگزاری اور اطاعت کے بجائے نافرمانی اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا۔

دوسری قسط:

ایک حکم کی تبدیلی اور نعمت کا عذاب میں بدل جانا

آیت 59 میں ان لوگوں کی تقدیر بیان ہوتی ہے جنہوں نے خدا کے حکم کی اطاعت کے بجائے اسے بدل ڈالا:

"فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ"

لیکن ظلم کرنے والے لوگوں نے اس بات کو [جو شہر کے باہر] ان سے کہی گئی تھی [شہر میں داخل ہونے کے بعد دوسری بات میں بدل ڈالا [گناہوں کے ازالے کی التجا کے بجائے مادی مفادات کی درخواست کر دی]۔ ہم نے بھی ظالموں پر آسمان سے ایک عذاب نازل کر دیا جنہوں نے مسلسل نافرمانی کی۔"

آیت کے مطابق، ظالموں نے وہ بات دوسری بات میں بدل دی جو ان سے کہی گئی تھی، اور نتیجے کے طور پر، نافرمانی، اور اطاعت کے راستے سے نکلنے، کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئے۔

پچھلی آیت سے تعلق میں، مسئلہ صرف ایک فقرے کی تبدیلی نہیں بلکہ اہم بات فرمان الٰہی سے سرکشی پر مبنی رویہ ہے۔ انہوں نے عجز و انکسار داخل ہونے اور بخشش مانگنے کے بجائے خدا کے حکم سے منہ موڑ لیا۔

یہ واقعہ اللہ کے احکام سے انسان کے طرز سلوک کے بارے میں ایک انتباہ ہے۔ کبھی کبھار سیدھے راستے سے انحراف، بظاہر چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے شروع ہوتا ہے، مگر جب یہ رویہ خدا کے حکم سے بے اعتنائی اور شعوری سرکشی سے جنم لے تو یہ انسان کو بڑی تباہی تک لے جا سکتا ہے۔

ان آیات کے تربیتی نقطہ نظر سے، تازہ اور نئے مواقع سے استفادہ اور اور نعمتوں کی فراوانی سے بہرہ وری کی بنا پر انسان کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔ عین اس وقت جب آسائش اور فائدے کا راستہ ہموار ہو، حق پر قائم رہنا اور نافرمانی سے بچنا، زیادہ اہمیت اختیار کرتا ہے۔

چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹ نکلنا؛ نعمت کے ساتھ تنبیہ

آیت 60 بنی اسرائیل کی زندگی میں خدا کی قدرت کی ایک اور نشانی کی طرف اشارہ کرتی ہے:

"وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ؛

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا، تو ہم نے کہا کہ اپنا عصا چٹان پر مارو، تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اس طرح کہ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ، الگ، جان لیا۔"

یہ واقعہ خدائے متعال کی مشیت سے، انسان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا ایک نمونہ مثال ہے۔ پانی جو حیات کے تسلسل کا ذریعہ ہے، اس وقت جب قوم کو اس کی ضرورت تھی، معجزانہ طور پر انہیں فراہم کیا گیا۔ چشموں کی تقسیم نے مختلف گروہوں کی بہرہ وری کا امکان بھی فراہم کیا۔

تاہم، خدائے متعال اس آیت میں صرف معجزے کے بیان پر نہیں اکتفا نہیں کرتا اور فوراً ارشاد فرماتا:

"كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ؛

کھاؤ اور پیو اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے، اور زمین پر فساد [اور خرابیاں] مت پھیلاتے پھرو۔"

یہ حصہ نعمت اور ذمہ داری کے درمیان واضح تعلق قائم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف لوگوں کی ضروریات پوری کرتا ہے، بلکہ ان سے چاہتا ہے کہ نعمتوں کے استعمال میں اللہ کی حدود کی رعایت کریں اور تباہی و فساد کی طرف نہ بڑھیں۔

چنانچہ خدا کے رزق سے استفادہ، خودغرضی یا دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کا بہانہ نہیں بننا چاہئے۔ نعمت اس وقت صحیح راستے پر آتی ہے جب اس کے ساتھ شکرگزاری، حق کی رعایت اور رویئے کی اصلاح بھی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha