23 اکتوبر 2026 - 22:30
پہلی قسط | بنی اسرائیل؛ ناشکری قوم جس نے اللہ کا غضب بھڑکایا

سورہ بقرہ ایک قوم کا واقعہ بیان کرتی ہے جس نے الٰہی معجزات دیکھنے اور بے شمار نعمتیں پانے کے باوجود ناشکری اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا اور آخرکار اللہ کے غضب میں مبتلا ہو گئی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورہ بقرہ کی آیات 58 تا 61 ایک ایسی قوم کا قصہ بیان کرتی ہیں جس نے اللہ کی نعمتیں حاصل کرنے اور خدا کی قدرت کی نشانیاں دیکھنے کے بعد، شکرگزاری اور اطاعت کے بجائے نافرمانی اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا۔

یہ آیات شہر میں عاجزی سے داخل ہونے کے حکم، اللہ کے حکم میں تبدیلی، پتھر سے بارہ چشمے پھوٹنے اور بنی اسرائیل کے اپنے کھانے پر اعتراض کی یاد دہانی کراتے ہوئے واضح کرتی ہیں کہ صرف نعمت سے مستفید ہونا سعادت کی ضمانت نہیں ہے؛ انسان کی تقدیر کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ نعمتوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتا ہے اور کس حد تک اللہ کے حکم پر قائم رہتا ہے۔

عجز و انکسار اور طلبِ مغفرت کے ساتھ داخل ہونے کا حکم

خدائے متعال سورہ بقرہ کی آیت 58 میں ارشاد فرماتا ہے:

"وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ؛

اور [یاد کرو] جب ہم نے کہا: اس بستی [بیت المقدس] میں داخل ہو جاؤ، اور اس میں سے جہاں سے چاہو خوب مزے سے کھاؤ اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے جانا اور کہنا (اے اللہ) ہمارے گناہ زائل فرما، تو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیک عمل کرنے والوں کے ثواب میں اضافہ کریں گے۔"

خداوند بنی اسرائیل کو حکم دیتا ہے کہ شہر میں داخل ہوں، اس کی فراوان نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور دروازے سے داخل ہوتے وقت عجز و انکسار اور سجدے کی حالت میں داخل ہوں اور لفظ "حِطَّة" کہیں، ایسا لفظ جس سے گناہوں کے کے ازالے اور طلبِ بخشش کا اظہار ہوتا ہے۔

علامہ طباطبائی ان آیات کے جائزے میں اللہ کی نعمت اور انسانی ذمہ داری کے درمیان تعلق کی طرف توجہ دلاتے ہیں؛ بنی اسرائیل کو ایک طرف خدا کے رزق کی فراوانی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت تھی اور دوسری طرف وہ پروردگار کے سامنے عاجزی کرنے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگنے کے پابند تھے۔

یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ زندگی کے وسائل سے فائدہ اٹھانا بندگی اور عاجزی کے منافی نہیں ہے۔ انسان مادی نعمتیں استعمال کر سکتا ہے، مگر ان سے مستفید ہونا غرور، غفلت یا اللہ کو فراموش کرنے کا سبب نہیں بننا چاہئے۔

ایک اور اہم نکتہ آیت کے آخر میں اللہ کا وعدہ ہے: "وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ" یعنی خدائے متعال نیکوکاروں کو مزید اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔ چنانچہ بندگی کا راستہ صرف گناہوں کی بخشش تک محدود نہیں، بلکہ نیکوکاری اور رویئے کی اصلاح، خدائے متعال کے مزید فضل کے حصول کا راستہ بھی فراہم کر سکتی ہے۔

ان آیات کے تربیتی نقطہ نظر سے، نئے مواقع اور فراوان نعمتوں کے نصیب ہونے انسان کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔ عین اس وقت جب آسائش اور فائدے کا ماحول فراہم ہو، راہ حق پر قائم رہنا اور نافرمانی سے بچنا، زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

پہلی قسط | بنی اسرائیل؛ ناشکری قوم جس نے اللہ کا غضب بھڑکایا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha