بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سبکدوش امریکی کرنل اور سابق امریکی وزیر دفاع کے چیف آف اسٹاف سبکدوش امریکی کرنل ڈاگلس میک گریگور نے ریٹائرڈ کرنل ڈینئیل ڈیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلی جنگ میں صبر و تحمل سے کام نہیں لے گا، خلیج فارس کی مغربی ساحلی ریاستوں میں تیل کے بنیادی ڈھانچوں اور پانی صاف کرنے کے کارخانوں کو تباہ کرے گا، عین ممکن ہے کہ خلیج فارس کو پار کرکے عرب ریاستوں میں ـ امارات سے کویت تک ـ زمینی کاروائیاں کرے اور تمام بنیادی ڈھانچوں کو نیست و نابود کر دے جن کی بحالی پر برسہا برس کا عرصہ لگے گا۔۔۔
ویڈیو کی تفصیل:
خیر، آیئے مالی اور اقتصادی نتائج کو ایک طرف رکھ دیں اور فوجی شعبے میں وسیع تر تزویراتی آثار و نتائج پر نظر ڈالیں۔
فوجی لحاظ سے، ایرانیوں نے جو کچھ بھی کہا تھا، انجام دیں گے، اور انجام دیں گے۔
ان کی کہی ہوئی چیزوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ اقدام اور طرز عمل کی نوعیت میں بہت حد تک متناسب عمل کریں گے۔ [اور اینٹ کا جواب اینٹ سے دیں گے]۔
انہوں نے بہت سارے واقعات میں ثابت کیا کہ بہت زیادہ حد تک صبر و تحمل سے کام لیا اور اپنے بہت سے دستیاب ہتھیار استعمال نہیں کئے۔ وہ بہت سے اہداف کو نشانہ بنا سکتے تھے جنہیں انہوں نے نشانہ نہیں بنایا۔
جو چیز سمجھ لینی چاہئے یہ ہے کہ انہوں نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ اس بار وہ صبر و تحمل سے ہرگز کام نہیں لیں گے اور ہر چیز کی نابودی ٹیبل پر ہے۔
واضح طور پر، تیل کے بنیادی ڈھانچے اور پانی صاف کرنے کے کارخانے ـ جو مغربی خلیج فارس میں واقع ہیں ـ حملوں کے نشانے پر ہیں: یعنی متحدہ عرب امارات سے شمال کی طرف، عراق کی سرحد تک۔
نیز انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ زمینی کاروائی کریں۔
گوکہ انہوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ یہ کام و ضرور کریں گے، لیکن ممکن ہے کہ ایسی کاروائیوں کا فیصلہ بھی کر لیں۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تیزرفتاری کشتیوں کے ذریعے خلیج کو پار کریں گے اور یہ ایک ناگہانی اور حیران کن حملہ ہوگا۔
انھوں نے کہا ہے کہ خاص حالات میں ایسی کاروائی کر لیں گے۔
اور ہاں، کویت اس سے پہلے بھی زمینی حملے کا نشانہ بنا ہے، اور مجھے توقع ہے کہ اس بار حملے بہت وسیع پیمانے پر اور زیادہ فیصلہ کن انداز سے ہونگے۔
چنانچہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو ایرانیوں نے کہا ہے کہ انجام دیں گے۔
ظاہر ہے کہ اگر وہ اپنے کہے پر عمل کریں اور امارات سے کویت تک کے مغربی ساحل کو نشانہ بنائیں، تو اس کے نتائج تباہ کن ہونگے۔
میں اور آپ (کرنل ڈینئل ڈیوس) اس خطے کو اچھی طرح جانتے ہیں، یہ مکمل طور پر انتہائی بنیادی اہمیت کے ڈھانچوں پر مشتمل علاقہ ہے جن میں تیل سپلائی کے ڈھانچے اور ترقیاتی بنیادی ڈھانچے شامل ہیں، اور اگر یہ ڈھانچے تباہ ہوجائیں تو دنیا کی اینرجی بنیادی اور ترقیاتی ڈھانچے برباد ہونگے؛ اور برسہا برس عرصہ لگے گا کہ یہ علاقہ بحال ہوجائے۔ جب تک کہ خطے میں استحکام بحال نہیں ہوگا، یعنی تنازعات اور دشمنیوں کا سلسلہ نہيں رکے گا، کوئی بھی یہاں سرمایہ کار نہیں کرے گا اور کوئی بھی دوسرا ملک [ان کی بحالی کے لئے] میدان میں نہیں آئے گا؛ میرا گمان ہے، کہ شاید چین ہی اس وقت میدان میں آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ