بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسدار حسین محبی نے صوبہ قزوین کے شہر تاکستان میں امامزادہ سید علی موسوی شارینی اسفرورین کے مقدس آستانے میں منعقدہ مسلح افواج کی پہلی صوبائی "نماز کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے شہداء، دفاعِ مقدس اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، خاص طور پر امامِ شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ)، شہید سائنسدانوں اور امریکی-صہیونی کے حملوں کے دیگر شہداء کو خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے نماز کے مقام اور انسان و معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
چوتھی اور آخری قسط:
نماز استقامت اور ذمہ داری کی صلاحیت بڑھا دیتی ہے
• نماز کا تیسرا تزویراتی کردار مزاحمت و استقامت، ثابت قدمی، جدوجہد، انتظامی اور قائدانہ صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے:
• خدائے متعال قرآن کریم کی آیت "إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ ؛ (1) میں، بے حیائی اور برائیوں کے خلاف روک تھام اور بازداری میں نماز کے کے کردار پر زور دیتا ہے۔
• انقلاب اسلامی کے شہید رہنما نے اس آیت کی وضاحت میں فرمایا: انسان کو برائی سے باز رکھنے کا مطلب صرف ظاہری طور پر گناہ سے روکنا نہیں ہے، بلکہ نماز انسان کے "اندرونی واعظ" کو مضبوط کرکے اسے برائیوں سے بچنے کی طرف لے جاتی ہے۔ شب و روز پانچ وقت نماز کے اعادے کی وجہ یہی ہے کہ یہ اندرونی یاددہانی مسلسل مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
• یہ کردار موجودہ حالات میں بھی بہت اہم ہے؛ ہماری نظر میں اسلامی جمہوریہ کی حمایت اور اس کی مضبوطی "معروف" کی اہم مثالوں میں سے ہے اور نمازی کو ملک اور اسلامی نظام کو مضبوط کرنے کی راہ پر چلنا چاہئے۔
• عہدیداروں اور کمانڈروں کے لئے نماز کی اہمیت بھی ناقابل انکار ہے؛ جس کے ذمے اہم ذمہ داری ہو، اسے اپنے فرائض درست طریقے سے انجام دینے کے لئے روحانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
• قیادت و انتظام سنبھالنا اور بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا، خاص طور پر مشکل حالات میں، اندرونی استقامت اور طاقت کا متقاضی ہے۔
• انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید دفاعِ مقدس کے دوران کمانڈروں کو نصیحت فرماتے تھے کہ وہ نمازِ شب اور نوافل کو برقرار رکھیں۔ نماز پر توجہ صرف ایک انفرادی فریضہ ادا کرنے کے لئے نہیں، بلکہ یہ، ذمہ داریاں اٹھانے اور فرائض کی بہتر انجام دہی میں انسان کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔
• آج ہم جنگی حالات میں ہیں اور ملک کو خطروں کا سامنا ہے؛ ہماری نظر میں موجودہ تصادم صرف ایک فوجی جھڑپ نہیں ہے، بلکہ اس کے تشخصی و شناختی نیز تہذیبی پہلو بھی ہیں؛
• دشمن ایران کے وجود اور یکجہتی کے خلاف ہیں اور ملک کی تقسیم، اور ایرانی-اسلامی تشخص کمزور کرنے کے درپے ہیں۔
• دشمن عظیم ایران کے خلاف ہے؛ یہ تصادم معاشرے کی مذہبی، تاریخی، اخلاقی اور روئے کی تشخص کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
• ہمارے دشمن معاشرے کی ثقافت اور دین کو کمزور کرنا اور اس کی جگہ کوئی اور شناخت لانا چاہتا ہے۔
• مجرم ٹرمپ اور امریکہ کے وہمی وزیر خارجہ نے ایران کے بارے میں جو بیانات دیئے ہیں، اس موقف کو ایرانی تشخص اور تہذیب کو کمزور کرنے کی کوشش کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
• اس تصادم کا نتیجہ ایران کے مستقبل کے لئے اہم ہے؛ اس جنگ کا انجام ایران اور دیگر ممالک کے لئے بھی اہم ہے اور ہمیں اللہ، شہداء کے خون اور عوام کی ثابت قدمی پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کے سامنے مزاحمت کرنی ہے۔
• ملک کا دفاع آج اولین ضرورت اور اولین ترجیح ہے۔ آج ہمیں اپنی علاقائی سالمیت، ثقافت، تشخص اور تہذیب کا دفاع کرنا چاہئے اور ملک کے لئے ایک مطلوبہ مستقبل رقم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ "اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ؛ پڑھ کر سنایئے اس کتاب میں سے وہ جو آپ پر وحی کے ذریعے بھیجا گیا ہے، بلاشبہ نماز بدکاری اور برائی سے باز رکھتی ہے اور بلاشبہ اللہ کا ذکر [اور اس کی یاد] سب سے بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے اس کو، جو تم لوگ انجام دیتے ہو۔" (سورہ عنکبوت، آیت 45)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ