27 اگست 2026 - 05:58
سعودیہ اور امارات کو ایران کی طاقت تسلیم کرنا پڑے گی، جوزف ماجکوٹ - 1

امریکی تھنک ٹینک میں توانائی کی سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر کا خیال ہے کہ ایران، کسی بھی قسم کی حکمرانی کے ساتھ، خلیج فارس کی مرکزی طاقت اور ایک پائیدار حقیقت ہے، اور خطے کی ریاستوں کو چاہئے کہ اسی اہم نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تمام منصوبے ترتیب دیں۔ / یہ ریاستیں اس یقین تک پہنچ ہی گئی ہیں کہ ان ریاستوں یقین ہو گیا ہے کہ وہ اب مزید امریکہ پر ایک استحکام بخش عنصر کے طور پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "سی ایس آئی ایس (Center for Strategic and International Studies [CSIS])" میں توانائی کی سلامتی پروگرام کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر جوزف ماجکوٹ (Joseph Majkut)،  کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا کے ممالک کی نظر میں ایک ناقابل اعتبار اور ناقابل اعتماد اداکار بن چکا ہے۔

وہ خلیج فارس کی ساحلی [عرب] ریاستوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایران کو اس خطے میں ایک پائیدار طاقت اور جغرافیائی سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کریں؛ کیونکہ ایران میں سیاسی نظام کی نوعیت سے قطع نظر، یہ ملک کبھی بھی خلیج فارس پر اپنی برتری اور تسلط سے دستبردار نہیں ہوگا۔

وہ خبردار کرتے ہیں کہ ٹرمپ پچھلی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کے لئے جنگ کو تیز کرنا چاہے گا تو تیل کی عالمی منڈیوں کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہوگا جو کشیدگی کا نظم و نسق منظم کر سکے اور معاشی تباہی کو روک سکے۔

امریکہ، اب سے ایک غیر متوقعہ اور خطر اور خطرناک عنصر سمجھا جائے گا

جوزف ماجکوٹ نے وضاحت کی کہ ایران پر امریکی حملے کی وجہ سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل میں سے ایک عالمی توانائی کی منڈیوں کے ایک اہم حصے کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں اور دنیا کے کم آمدنی والے طبقات؛ خاص طور پر ڈیزل مارکیٹ میں، جو محدود عالمی سپلائی کی وجہ سے دباؤ میں ہے، اور ایل این جی مارکیٹ میں، جس کی قیمت یورپ اور مشرقی ایشیا کے خریداروں کے لئے 40 فیصد یا اس سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ سے بین الاقوامی نظام میں امریکہ کی پوزیشن میں ایک سنگین تبدیلی آئی ہے: "ایک ایسا ملک جو کئی ممالک کے خیال میں عشروں تک ایک اسٹریٹجک 'فکسڈ طاقت' تھا اور کئی دہائیوں تک ان کی سلامتی اور اقتصادی حسابات کی بنیاد تھا، اب ایک غیر متوقع 'متغیر' بن گیا ہے۔"

ماجکوٹ کا خیال ہے کہ وہ ممالک جن کا جنگ میں کوئی کردار نہیں تھا اور وہ کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہتے تھے اور اس کے آغاز کے بارے میں کبھی ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا، اب امریکہ پر پہلے سے اعتماد کرنے کے بجائے تنوع، خطرات کو حذف کرنے اور واشنگٹن کے فیصلوں کے حوالے سے اپنی زدپذیری کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ ماجکوٹ کے مطابق بہت سی حکومتیں اس جنگ کے نتیجے میں خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کرتی اور سنگین خطرات سے دوچار دیکھتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: رضا حسینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha