بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا|| سپاہ نیوز کے مطابق، امام رضا(ع) کور کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پاسدار سید ہاشم غیاثی نے 'بسیجِ ملازمین' کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
• آج ہمارا ملک حالتِ جنگ میں ہے اور اسلامی ایران امت مسلمہ کے دفاع کا اگلا مورچہ بن گیا ہے۔
• اگر آج ہم نے جنگی محاذ پر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے عزیز عوام کی بلند ہمت، صبر اور مسلح افواج کے مختلف شعبوں میں عزیزوں کی استقامت سے دشمن کی ناک زمین پر رگڑی ہے، تو ہمیں اس اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا پڑے گا۔
• یہ مشق کے لئے ایک خاص موقع ہے؛ ہمارے معاشرے میں ولی فقیہ کی موجودگی ولایت پذیری کی مشق کا بہترین نمونہ ہے تاکہ ہم خود کو امام مہدی(عج) کے ظہور کے لئے تیار کر سکیں۔
جنگ میں ایرانی قوم کا عاشورائی عزم
• دشمن تیسری جنگ میں اپنے ہداف حاصل کرنے کے لئے کوشاں تھا؛ جن میں ایران کا ہتھیار ڈالنا اور عوام کا مزاحمتی محاذ سے فرار شامل تھا۔ تاہم، اس بار بھی اس نے اپنے حساب کتاب میں سنگین غلطی کا ارتکاب کیا۔
• دشمن نے کوشش کی کہ انقلاب کے شہید رہنما، عزیز کمانڈروں اور ہمارے عوام کی شہادت کے بعد اس قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے۔
• دشمن کے منصوبوں کے مطابق، ایران صرف 28 فروری 2026 کے مجرمانہ حملے کے جواب میں وعده صادق آپریشنز کی طرح مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کو نقصان پہنچا سکتا تھا؛ جبکہ ایران کے جوابی انداز بدل گئے اور حملہ آور اتحادیوں کو اچنبھے میں ڈال دیا۔
• دشمن نے اس جنگ میں مسلح افواج کے عاشورائی عزم کو بخوبی محسوس کیا۔ انہوں نے 40 روزہ جنگ اور اس کے بعد کی جھڑپوں میں دیکھا کہ ایران کے بہادر بیٹوں نے کس انداز سے استقامت کی۔
• متعدد مواقع پر ایسا بھی ہؤا کہ چودہ افراد پر مشتمل میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز میں سے دس شہید ہو گئے، لیکن باقی رک گئے، میزائل کو مقررہ ہدف پر داغا اور پلیٹ فارم کو واپس لے آئے۔
• جب ہمارے امامِ شہید نے ـ دشمن کی جارحیت کی صورت میں افواج کو از خود جواب دینے کا اختیار سونپا، تو ہمارے دشمن کو یقین نہیں تھا کہ یہ حکم ان کے لئے کتنا تباہ کن اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن پھر بھی حالیہ جنگ میں انہوں نے اس حکم کے نتائج و اثرات کو دیکھ ہی لیا۔
• تاریخ گواہ ہے کہ ہم دشمنوں کی طرح سلوک کر سکتے تھے، لیکن نہیں ایسا نہیں کیا۔ ہم جوانمردانہ جنگ کے قائل ہیں۔
• 40 روزہ جنگ میں ایران میں 180 سے زائد امریکی ڈرون گرائے گئے۔ دشمن کو ہماری اس صلاحیت کا یقین نہیں تھا، لیکن اس کو اپنی غلط حساب کتاب کا خمیازہ بھتگتنا پڑا۔
• ان کا منصوبہ جنوب مشرق اور شمال مغرب سے ملک میں داخل ہونے کا تھا، لیکن سرکاری تجزیوں کے مطابق ـ جن کا اعلان ہؤا اور جن کا اعلان نہیں ہؤا ـ اگر یہ منظرنامہ رونما ہوتا تو امریکی دشمن کی ہلاکتوں اور قیدیوں کی تعداد تصور اور تخمینے سے بھی زیادہ ہوتی۔
• بنیادی طور پر اس منظرنامے کے دستیاب ہونے کی وجہ سے، علیحدگی پسندوں کے ذخائر اور لاجسٹک تنصیبات پر بامقصد (Targeted) اور تباہ کن اور مہلک حملے کیے گئے جس نے ان کی آپریشنل صلاحیت کو ختم کر دیا۔
اتحاد اور یکجہتی؛ کامیابی کے تسلسل کی شرط
• حقیقت یہ ہے کہ ایرانی قوم حالیہ جھڑپوں کی سب سے بڑی فاتح رہی ہے۔
• دشمن کو گمان تھا کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ایران کا خاتمہ کر دے گا، لیکن اب آبنائے ہرمز پر ایرانی انتظامات نافذ ہیں، اس اہم شاہراہ کا مکمل کنٹرول اسلامی ایران کے پاس ہے اور اسی طرح عالمی توانائی منڈی کی نبض بھی توانائی کی اس حساس گذرگاہ پر دھڑکتی ہے۔
• اسلامی ایران نے اس جنگ میں مضبوطی سے استقامت کی اور اب امریکی حکومت خود اس جنگ جوئی کے تباہ کن نتائج میں الجھی ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ