اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی فوج نے ہفتے کے روز جنوبی شام میں دمشق کے مغربی مضافات میں عرنہ اور دربل کے درمیان تین فوجی گاڑیوں پر مشتمل گشت کے ذریعے ایک نئی زمینی کارروائی کی اور عارضی چیک پوسٹ قائم کی۔
صیہونی فوجیوں نے اس کارروائی کے دوران شہری گاڑیوں کو روک کر اس راستے سے گزرنے والے افراد اور مقامی رہائشیوں کی شناخت کی جانچ کی۔
یہ زمینی کارروائی قنیطرہ اور درعا کے مضافاتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر دراندازی اور فوجی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ کی گئی۔
یہ کارروائیاں بیت جن گاؤں اور اس کے قریب واقع زرعی اراضی پر صیہونی فوج کے حملے کے سلسلے میں جاری رہیں۔ اس حملے کے دوران ایک خالی عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا گیا اور مقامی باشندوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔
اسی حوالے سے شام کے انسانی حقوق کے نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 8 دسمبر 2024 سے 6 اکتوبر 2026 تک صیہونی فوج نے شام کی سرزمین کے اندر 453 زمینی دراندازی کی کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 69 افراد شہید ہوئے۔
ان میں زیادہ تر کارروائیاں قنیطرہ اور درعا کے صوبوں جبکہ کچھ کارروائیاں دمشق کے مضافات میں ہوئیں۔
رپورٹ میں شام کے 162 شہریوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں سے 35 افراد کے بارے میں اب تک کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
اس کے علاوہ قنیطرہ کے مضافات میں واقع حمیدیہ گاؤں میں شہریوں کے 15 مکانات بھی تباہ کیے گئے۔ صیہونی ریاست نے جباتا الخشب کے محفوظ قدرتی علاقے میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جبکہ قنیطرہ کے چراگاہوں پر نامعلوم مواد کا چھڑکاؤ کیا گیا۔
اس نیٹ ورک کے مطابق صیہونی فوج نے العشہ گاؤں کے مغرب اور الرفید شہر کے قریب ’’سوفا لائن 53‘‘ کے علاقے میں بھی ایک بار پھر زمینوں کو نقصان پہنچایا۔
یہ کارروائیاں سینکڑوں فضائی حملوں کے ساتھ جاری رہیں، جن میں دمشق اور اس کے مضافات، حما، لاذقیہ، حمص، طرطوس، سویدا اور ادلب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
صیہونی ریاست نے ان حملوں کے دوران شام میں قائم غیر فوجی علاقے اور اس کے اطراف موجود ٹھکانوں میں اپنی فوجی موجودگی سے فائدہ اٹھایا۔
آپ کا تبصرہ