اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب صدر شیخ علی خطیب نے نماز جمعہ کے خطبے میں ملک کے سیاسی، اقتصادی اور مالی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کو حکومتی بحران اور مالی مشکلات سے پہلے اعتماد اور خودمختاری کے بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں آئین موجود ہے، لیکن اس کی بعض شقوں پر عمل کیا گیا ہے، جبکہ طائف معاہدے میں طے پانے والی اصلاحات سمیت کئی اہم معاملات اب بھی زیر التوا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب قانونی اداروں کی جگہ سیاسی سمجھوتے لے لیتے ہیں تو ملک قانون پر مبنی نظام حکومت کے بجائے سیاسی مفادات اور باہمی سودے بازی کے تحت چلنے لگتا ہے۔ سیاسی سمجھوتے بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن جب انہیں اصلاحات روکنے اور جواب دہی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ مسئلہ بن جاتے ہیں۔
شیخ علی خطیب نے عوام کو درپیش معاشی مشکلات، بینکاری کے بحران، کھاتہ داروں کی رقوم، سرکاری قرضوں اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی ضروریات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا خاتمہ یا اسرائیلی فوج کا انخلا ہی لبنان کے تمام مسائل حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ حکومت کو بینکاری نظام میں اصلاحات، نقصانات کی منصفانہ تقسیم، کمزور طبقات کے تحفظ، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے واضح منصوبہ پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے مالیاتی اور بینکاری اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عوام کو اپنی جمع پونجی کے مستقبل، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی، عوامی خدمات میں کمی اور روزگار کے مواقع کے بارے میں سوال اٹھانے اور مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔
شیخ علی خطیب نے کہا کہ پُرامن احتجاج عوام کا شہری اور سیاسی حق ہے اور اسے محض ایک سکیورٹی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ عوامی مطالبات کو نظر انداز کرنے سے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
لبنان کی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب صدر نے ملک کے سامنے دو راستوں کی نشاندہی کی: ایک، بحرانوں کو عارضی طور پر سنبھالتے رہنا، اور دوسرا، مضبوط ریاست کی تعمیر کی جانب پیش رفت کرنا۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے راستے کے لیے آئین پر مکمل عمل درآمد، طائف معاہدے میں طے شدہ اصلاحات کی تکمیل، عدلیہ کی خودمختاری مضبوط بنانے، نگرانی اور جواب دہی کا دائرہ وسیع کرنے، بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات اور سرکاری اداروں میں اہلیت کی بنیاد پر تقرریوں کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے سرحدوں کے تحفظ اور اسرائیلی قبضے و جارحیت کے خاتمے کے لیے فوج اور سرکاری سکیورٹی اداروں کی حمایت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قانون اور قراردادوں کی بنیاد پر اقدامات کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے مزاحمت کے ہتھیاروں کے معاملے کو داخلی تنازعات کا سبب بنانے کے بجائے ایک واضح قومی دفاعی حکمتِ عملی کے دائرے میں حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شیخ علی خطیب نے آخر میں کہا کہ لبنان کو ایک نئے قومی راستے کی ضرورت ہے، جس میں صیہونی قبضے کے مقابلے میں خودمختاری، بدامنی کے مقابلے میں مضبوط حکومت، تباہی کے مقابلے میں اصلاحات، سیاسی مفادات کی تقسیم کے مقابلے میں انصاف اور آئین پر چنیدہ عمل درآمد کے بجائے اس کی تمام شقوں کا نفاذ شامل ہو۔
انہوں نے کہا کہ آج اصل چیلنج یہ ہے کہ آئینی دفعات کو مؤثر اداروں میں، اداروں کو مضبوط حکومت میں اور حکومت کو شہریوں کے تحفظ کی حقیقی پناہ گاہ میں تبدیل کیا جائے۔
آپ کا تبصرہ