بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآنی نگاہ کے ذریعے انقلابی طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے، گہرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے انسان، معاشرے، دشمن، طاقت، عدالت، مزاحمت و مقاومت، امید، عوام اور مستقبل کے بارے میں امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای، (طاب ثراہ) کے نظریئے کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
حصۂ پنجم:
یہیں پر قرآن اور تمدن سازی (تہذیب سازی) کے مفہوم کے درمیان رشتہ قائم ہوتا ہے۔
اسلامی تمدن صرف عمارتوں اور مادی ترقی کی تعمیر نہیں؛ بلکہ ایک سماجی نظام کی تعمیر ہے جس میں انسان ترقی اور قربِ الٰہی کی راہ پر گامزن ہو اور علم، طاقت، معیشت اور ثقافت، انسان کی کرامت اور سعادت کی خدمت میں ہوں۔
اس زاویئے سے، تمدن سازی اگر قرآن کے بغیر ہو تو ممکن ہے کہ یہ مادی ترقی تک محدود رہے؛ اور قرآن معاشرے کی تعمیر کی کوشش کے بغیر، ممکن ہے کہ انفرادی دائرے تک محدود ہو جائے۔
ان دونوں کا ربط و تعلق، وہی نقطہ ہے جہاں قرآنی فکر تمدنی منصوبے میں تبدیل ہوتی ہے۔
قرآن اور انقلابی طرزِ عمل؛ ایک باہم جڑا ہوا نظام
اب انقلابی طرزِ عمل کے باہم جڑے ہوئے نظام کے اہم اجزاء کو ایک واحد سلسلے میں یوں پیش کیا جا سکتا ہے:
ایمان < تقویٰ < بصیرت < صبر < توکل < جہاد < عدالت < سماجی ذمہ داری < دشمن شناسی < امید < معاشرہ پردازی (اور معاشرہ سازی) < تمدن سازی (تہذيب کی تعمیر)
اس سلسلے سے عیاں ہوتا ہے کہ قرآنی منطق میں انقلابی طرزِ عمل، ایک تربیتی، سماجی اور تمدنی عمل ہے۔
• مؤمن انسان پر خودسازی کرنا اور اپنی ذات کی تعمیر کرنا لازم ہے؛
• خودسازی کرنے والے انسان کو سماجی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی؛
• ذمہ دار معاشرے کو قیام عدل کے لئے اٹھنا چاہئے؛
• عادل معاشرے کو طاقتور اور بااختیار ہونا چاہئے؛ اور
• طاقتور اور باصلاحیت معاشرے کو تمدن سازی کی استعداد حاصل کرنا چاہئے۔
امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای (طاب ثراہ)، کے قرآنی انقلابی طرزِ عمل سے حاصل ہونے والا تزویراتی سبق یہ ہے:
اگر قرآن کو انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ (Roadmap) سمجھیں تو آج بھی پالیسیوں اور کارکردگیوں کو قرآنی سوالات سے پرکھنا چاہئے:
• کیا ہمارا فیصلہ عادلانہ ہے؟
• کیا یہ انسان کے وقار و کرامت میں معاون ہے؟
• کیا یہ عوام کو زیادہ طاقتور اور ذمہ دار بناتا ہے؟
• کیا یہ ملک کی خودمختاری میں اضافہ کرتا ہے؟
• کیا یہ معاشرے کی امید کو تقویت دیتا ہے؟
• کیا یہ علم اور معرفت کی نشوونما کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے؟
• کیا یہ عوامی [اور قومی] دولت کو محفوظ رکھتا ہے؟
• کیا یہ آنے والی نسلوں کے حقوق کو ملحوظ رکھتا ہے؟
• کیا یہ معاشرے کو خطرات کے مقابلے میں زیادہ استقامت عطا کرتا ہے؟
• اور کیا یہ ہمیں اسلامی معاشرے اور اسلامی تہذیب و تمدن کی طرف ایک قدم قریب کرتا ہے؟
اگر ان سوالات کے جوابات واضح نہ ہوں تو اصل ہدف و مقصد اور عمل کے درمیان تعلق کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے۔
ہمارے شہید امام کے انقلابی طرزِ عمل میں قرآن؛ مآخذِ بصیرت، معیارِ تشخیص، سرچشمۂ امید، راہنمائے عمل اور حرکت کا افق ہے۔
قرآن انسان کو سکھاتا ہے کہ ایمان کو عمل میں تبدیل ہونا چاہئے، تقویٰ کو طاقت پر کنٹرول رکھنا چاہئے (تقویٰ کو طاقت پر حاوی اور غالب ہونا چاہئے)، بصیرت کو فیصلہ سازی کا، ہادی و راہنما ہونا چاہئے، صبر کو، حرکت، جاری رکھنی چاہئے، توکل کو، ارادے کو، مضبوط کرنا اور رکھنا چاہئے، جہاد کو، صلاحیتوں کو، حرکت میں لانا چاہئے، عدالت کو، حکمرانی کا معیار، ہونا چاہئے، سماجی ذمہ داری کو، معاشرے کو، زندہ رکھنا چاہئے اور امید کو، مستقبل کو قابلِ تعمیر، جاننا چاہئے۔ اس بنا پر، قرآن پر مبنی انقلابی طرزِ عمل کو یوں پیش کیا جا سکتا ہے:
"انقلابی طرزِ عمل، قرآنی ایمان سے سماجی عمل، عدالت، مزاحمت و مقاومت، معاشرہ سازی و معاشرہ پردازی اور تمدن سازی و تعمیرِ تہذیب کی جانب آگاہانہ اور ذمہ دارانہ حرکت ہے۔"
توحید، انقلابی طرزِ عمل کا مبدأ (اور آغاز) ہے اور قرآن اس کا نقشۂ راہ (Roadmap)۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: آیت اللہ عباس کعبی، مورخہ 20 اگست 2026ع
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ