مسلمانوں کے نویں امام حضرت امام محمد تقی الجواد (علیہ السلام)، 10 رجب المرجب 195 ہجری قمری کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ کی امامت کا دور تاریخِ تشیّع کے انتہائی حساس اور مشکل ادوار میں سے ہے۔ امام رضا (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد، شیعہ معاشرہ سیاسی دباؤ، عباسی حکومت کی شدید نگرانی اور شک و شبہات کے بھاری ماحول کا سامنا کر رہا تھا۔ [۔۔۔]
آج دشمنوں کے ساتھ جنگ کا میدان آزاد اور خودمختار قوموں کے ذہنوں کی تسخیر اور جذبات و احساسات کو سمت [یا رخ] دینا اور بدلنا، تسلط پسندانہ اہداف میں شامل ہیں۔ اس مرکب (Hybrid) اور ادراکی جنگ میں، دشمن ـ خاص طور پر ـ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور بصری ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھا کر "جعلی بیانیے" تخلیق کرتے ہیں۔
آج دشمنوں کے ساتھ جنگ کا میدان آزاد اور خودمختار قوموں کے ذہنوں کی تسخیر اور جذبات و احساسات کو سمت [یا رخ] دینا اور بدلنا، تسلط پسندانہ اہداف میں شامل ہیں۔ اس مرکب (Hybrid) اور ادراکی جنگ میں، دشمن ـ خاص طور پر ـ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور بصری ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھا کر "جعلی بیانیے" تخلیق کرتے ہیں۔
آج کی جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں۔ جنگ کا اصل میدان اقوام کے دلوں اور ذہنوں کا میدان ہے۔ جب دشمن میدان جنگ میں ناکام ہوتا ہے تو وہ اسی إرجاف کے راستے پر چل پڑتا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔
ہفتۂ بسیج اور ایام فاطمیہ کا ایک ساتھ آنا "فاطمی تربیتی بسیج (فاطمی تربیتی لام بندی یا تیاری)" کی طرف خصوصی توجہ اور اس کی تہذیبی صلاحیت کے احیاء کا موقع ہے۔ یہ وہ مکتب ہے جس کا نتیجہ امام حسن (علیہ السلام)، امام حسین (علیہ السلام) اور زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا) جیسی شخصیات کی تربیت ہے۔
"ہم اور مغرب؛ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی آراء اور افکار کی روشنی" کے عنوان سے کانفرنس، اساتذہ، محققین اور علمی و سیاستدانوں کی شرکت میں آئی آر آئی بی کے کنونشن ہال میں منعقد ہوئی۔
دنیا بنیادی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جو نظام کسی زمانے میں لبرلزم اور امریکی بالادستی کے گرد تشکیل پایا تھا، اس وقت اندرونی فرسودگی، قانونیت کے بحران اور اخلاقی شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے۔