بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، "میتھیو ہو (Matthew Hoh)" امریکی بحریہ کے سابق افسر ہے جس نے عراق جنگ میں حصہ لیا، اور وہ افغانستان جنگ کے دوران امریکی وزارت خارجہ میں بطور افسر بھی تعینات رہا۔ سنہ 2009ع میں، جب اسے وزارت خارجہ میں ایک عہدے پر فائز کیا گیا، تو اس نے اوباما انتظامیہ کی جانب سے افغانستان جنگ میں شدت پیدا کرنے کے خلاف احتجاجاً اپنے افغانستان والے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اس وقت خارجہ پالیسی اور فوجی امور کا تجزیہ کار اور مبصر کے طور پر، آئزنہاور میڈیا نیٹ ورک کے سینئر رکن کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔
انٹرویو کا خلاصہ:
ایران عمان معاہدہ:
اس کے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ میں رہے گا اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول نے امریکی بحری جہازوں اور علاقائی اڈوں کی رسد کو ٹھپ کر دیا ہے، جس سے امریکی فوجی موجودگی غیرمحفوظ ہو گئی ہے۔ یہ معاہدہ ایران کی فتح کو مستحکم کرتا ہے۔
ٹرمپ کا رویہ:
وہ غیرمعمولی، غیرمنطقی اور صرف اپنی ذات کا وفادار ہے۔ اس کو انتخابات یا معیشت کی فکر نہیں، بلکہ وہ صرف میڈیا کی سرخیاں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔ ایران سے جنگی معاوضہ لینے کا دعوی محض ایک سیاسی اور ابلاغیاتی ڈرامہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امریکی ناقابلِ اعتماد ہیں:
ہو نے واضح کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت کسی بھی معاہدے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس انتظآمیہ نے چند ہفتوں بعد اسلام آباد معاہدہ بھی توڑ دیا۔ ایران کو اپنی حفاظت صرف اپنی تسدیدی صلاحیت (Deterrence capability) پر استوار رکھنی چاہئے۔
ایران کی فوجی کامیابیاں:
ایرانی فوج نے متناسب جنگ (Symmetrical warfare) بھی لڑی اور غیر متناسب جنگ (Asymmetric warfare) بھی لڑی؛ امریکی بحریہ کو ساحلوں سے 1000 کلومیٹر دور دھکیل دیا، اور امریکہ کو خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں اپنے اڈے خالی کروانے پر مجبور کر دیا؛ اور ثابت ہؤا کہ امریکی جنگی نظریہ اکیسویں صدی میں ناکام ہے اور امریکی فوج صرف "نوآبادیاتی پولیس (Colonial Police)" کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
سیاسی کامیابیاں:
ایران نے عالمی توانائی کی سیاست میں، دباؤ ڈال کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں، بشمول یورپ، جاپان اور کوریا، پر سیاسی دباؤ بھی ڈالا۔ یہ کامیابیاں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ اور زوال پذیر امریکی سلطنت کی سمت متعین کریں گی۔
خلاصہ:
جو کچھ ایران نے سرانجام دیا وہ پوری دنیا کے لئے اہم ہے اور اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ ایران ایک عالمی طاقت ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت، زیرک قیادت اور دشمن کی کمزوریوں کو سمجھنے کی صلاحیت کی بنا پر نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے فوجی نظریئے کو چیلنج کر سکتا ہے، بلکہ عالمی سیاست میں بھی اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ