اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں قیدیوں کے امور کے ادارے کے ترجمان جعفر یحییٰ نے آلِ خلیفہ حکومت کی جانب سے علما کے خلاف جاری مقدمات اور عدالتی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات علما اور بحرین کی شیعہ برادری کو سیاسی و سماجی طور پر دباؤ میں رکھنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحرینی حکام علما پر قانونی خلاف ورزیوں کے الزامات ثابت کرنے کے لیے واضح اور ٹھوس شواہد پیش نہیں کر رہے، جبکہ ان کے خلاف قائم مقدمات ایسے اعترافات پر مبنی ہیں جو مبینہ طور پر تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے۔
جعفر یحییٰ نے علما کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کو ایک نمایشی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد علما اور شیعہ معاشرے کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر پردہ ڈالنا ہے۔ ان کے بقول، ایسی عدالتی کارروائیاں علما کے ساتھ ہونے والے ظلم کو کسی صورت قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے موجودہ مقدمات کو 2011 میں حکومت مخالف شخصیات کے خلاف کیے گئے اقدامات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آج علما کو نشانہ بنایا جانا بھی مخالفین اور شیعہ برادری پر دباؤ ڈالنے کے ایک مسلسل سلسلے کا حصہ ہے۔
بحرینی قیدیوں کے امور کے ادارے کے ترجمان نے مزید کہا کہ حکام ایسے علما کو جیلوں میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو معاشرے میں فعال کردار اور عوامی اعتماد رکھتے ہیں، تاکہ بحرینی معاشرے سے ان کی سماجی موجودگی ختم کی جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بااثر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانا صرف عدالتی کارروائیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق بحرین کے اندر سماجی اور مذہبی ڈھانچے کو ازسرنو تشکیل دینے اور تبدیل کرنے کی کوششوں سے بھی ہے۔
آپ کا تبصرہ