8 ستمبر 2026 - 15:34
بحرین میں شیعہ اداروں کا ’’پوشیدہ محاصرہ‘‘؛ بظاہر غیر جانب دار قوانین کے ذریعے پابندیاں سخت

مرآة البحرین نے ایک تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کی حکومت شیعہ اداروں پر کسی باقاعدہ ’’محاصرے‘‘ کے نام سے قانون بنانے کے بجائے اوقاف، مذہبی تقریبات، انتہاپسندی اور چندہ جمع کرنے کے ضوابط جیسے بظاہر غیر جانب دار قوانین کے ذریعے ان کی سماجی، مذہبی اور مالی سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل محدود کر رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مرآة البحرین نے بحرین میں شیعہ اداروں اور ان کی فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت کی نئی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو شیعوں کے محاصرے کے نام سے کوئی قانون منظور کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ پالیسی مختلف انتظامی قوانین اور ضوابط کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اوقاف کے امور، مذہبی تقریبات، انتہاپسندی کے خلاف اقدامات اور اب چندہ جمع کرنے کے ضوابط جیسے اقدامات بظاہر انتظامی اور غیر جانب دار دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کے نتیجے میں شیعہ اداروں کی سرگرمیوں کے لیے گنجائش بتدریج محدود ہوتی جا رہی ہے۔

مرآة البحرین کے مطابق، چندہ جمع کرنے سے متعلق نئے ضوابط حکومت کو وسیع اختیارات فراہم کرتے ہیں، جن میں چندہ جمع کرنے کے اجازت نامے جاری کرنا، مالی وسائل اور اخراجات کی نگرانی، بیرون ملک رقوم کی منتقلی کی جانچ، خطرات کا جائزہ، جرمانے عائد کرنا اور حتیٰ کہ اثاثے ضبط کرنا شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی نگرانی سے فلاحی اور سماجی اداروں کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے اور ان کی مالی سرگرمیاں بڑی حد تک حکومتی نگرانی میں آ جاتی ہیں۔

حکومتی دعووں اور عملی پالیسی میں تضاد

مرآة البحرین نے بحرین کے شاہی خاندان کے رکن شیخ ناصر بن حمد کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے فلاحی کاموں کو بحرینی معاشرے کی قدیم اور جڑوں سے جڑی روایت قرار دیا تھا۔

رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر فلاحی سرگرمیاں معاشرے کے اداروں اور افراد نے نسل در نسل قائم کی ہیں تو حکومت اب اس پورے نظام کو اپنے مکمل کنٹرول میں کیوں لینا چاہتی ہے؟

مرآة البحرین نے مزید دعویٰ کیا کہ بحرین کی موجودہ پالیسی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پابندیوں اور محاصرے کے طریقۂ کار سے مماثلت رکھتی ہے اور اسے شیعہ برادری کے خلاف مالی، سیاسی اور سماجی دباؤ کے ایک منظم عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف قوانین اور خطرات کے جائزے جیسے اختیارات ایسے ماحول میں سیاسی دباؤ کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں جہاں سرکاری بیانیے میں شیعہ شہریوں کی وفاداری کو ایران، ولایتِ فقیہ اور بیرونی وابستگیوں سے جوڑنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

مرآة البحرین کے مطابق، ایسی صورتحال میں جب حکومت خود شہریوں کی وفاداری سے متعلق شکوک پیدا کرے اور پھر انہی شہریوں کے مالی وسائل کو خطرے کے پیمانے پر جانچے، تو دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور سیاسی دباؤ کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بحرین کے بادشاہ کو ان پالیسیوں کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران مختلف سیاسی اور قانونی اقدامات کا ایک ہی سمت میں آگے بڑھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں محض وزرا یا سرکاری اہلکاروں کے الگ الگ فیصلے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مرآة البحرین نے آخر میں کہا ہے کہ بحرین میں جاری اقدامات کا مقصد لازماً شیعہ اداروں کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں، بلکہ ایسی شرائط عائد کرنا ہے جن کے باعث ان کی سرگرمیاں، مالی وسائل اور بقا کا نظام بتدریج حکومت پر منحصر ہوتا جائے۔ رپورٹ کے مطابق، شیعوں کے محاصرے کے نام سے کوئی تحریری قانون نہ بھی ہو، تو اس کے اثرات معاشرے میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha