بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ [---] ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو مادے سے معنیٰ (اور مادیت سے روحانیت) میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ معنوی نگاہ اپنے ساتھ ایک قسم کی اسٹراٹیجک تخلیقیت لاتی ہے۔
پانچواں حصہ:
علمیاتی تعطل (Epistemological Discontinuity):الہی انسان بمقابلہ مادیت پسند ایپسٹینی انسان
شہادت کا نظریہ، جو لیفٹیننٹ جنرل الحاج قاسم سلیمانی جیسے کمانڈروں کی فطرت اور کردار میں میں مجسم ہؤا، مغرب کے تمام فوجی حسابات کو مفلوج کر چکا ہے۔ کلاسیکی فوجی نظریئے میں، "طاقت" کا اندازہ ٹینکوں کی تعداد اور فوجی بجٹ کی مقدار سے لگایا جاتا ہے، لیکن اسلامی مکتب اور ایرانی-اسلامی تہذیب میں، "طاقت" ایثار اور ایمان سے جنم لیتی ہے۔ اسی لئے ایران اقتصادی دباؤ کے باوجود، خطے کا سب سے مؤثر کھلاڑی بن کر ابھرتا ہے۔ مغرب کو ایران کے "میزائل" سے ڈر لگتا ہے، لیکن دوسری مظلوم قوموں (یمن سے لبنان اور غزہ تک) کے درمیان "شہادت کے فکر" کے پھیلاؤ سے وہ یقینی طور پر خوفزدہ اور گہری دہشت میں مبتلا ہے اور اس کے نامی گرامی تجزیہ کار اور سیاستدان یہ کہتے ہوئے نہیں ہچکچاتے کہ "ہمیں فلسطین، لبنان، ایران اور یمن میں سب سے بڑا خطرہ "موت سے نہ ڈرنے" کے رجحان سے محسوس ہوتا ہے؛ وجہ یہ ہے کہ یہ فکر ان کی طرف کے "خوف و ہراس" کے عنصر کو، ـ جو استعمار کا ستون ہے، ـ بالکل بے کار کر دیتا ہے۔ یہ عنصر دشمنیوں کی بنیادی جڑ کی وضاحت کرتا ہے۔ یہاں مختلف انسان شناسیوں پر مختصر توجہ دینا مناسب ہے:
الف) مادی بشریات (Material [Materialist] Anthropology) (مغربی):
اس نقطہ نظر میں، انسان "آلہ ساز حیوان" یا "اقتصادی حیوان" ہے۔ ایسی مخلوق انتہائی "قابلِ پیش گوئی (Pridictable)" اور "قابلِ کنٹرول" ہے۔ اگر آپ اسے موت کی دھمکی دیں، تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اگر آپ اس کی معیشت کو پابندیوں سے تنگ کریں، تو وہ ہار مان لے گا۔
مغرب کی 'پوری کی پوری طاقت' انسانوں میں "موت کے خوف" اور "دنیا کی محبت" کے انتظام پر قائم ہے۔ وہ اس فارمولے سے برسوں سے قوموں پر حکومت کر رہے ہیں اور بڑے بڑے ممالک کو اسی قاعدے کے تحت زیر نگیں لاتے رہے ہیں۔
ب) ایمانی بشریات (ایرانی-اسلامی بشریات):
اس کے مقابل، تشیّع اور مکتبِ شہادت انسان کی ایک باغیانہ اور غیر متوقع تعریف پیش کرتے ہیں۔ اس مکتب میں، انسان "عبداللہ (بندۂ خدا)" اور "خلیفۃ اللہ (خدا کا خلیفہ)" ہے۔ اس انسان کی غایت، جسمانی بقاء نہیں، بلکہ "حیاتِ طیبہ" ہے۔ ایک طویل تاریخ میں، ایران "تشیّع اور شہادت" کے مکتب کا امین رہا ہے۔ اس مکتب میں، شہادت اختتام نہیں ہے اور نہ ہی مایوسی کی انتہاؤں پر خودکشی کا عمل ہے؛ بلکہ حیاتِ جاوید کے لئے ایک شعوری انتخاب ہے۔ جب کوئی قوم اس یقین تک پہنچ جاتی ہے کہ حق کی راہ میں قتل ہونا عین فتح ہے، تو مغرب کی طاقت کا سب سے بڑا اوزار (یعنی موت کی دھمکی اور موت سے خوفزدہ کرنا) بے کار ہو جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جسے پینٹاگون کے جرنیل اپنے جنگی کمروں میں ضابطہ بند (Formulate) نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ