بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں 45 میں اردن کے عوام کو مخاطب ہوکر کہا: ہمارا قانونی، شرعی اور منطقی حق ہے کہ ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں جہاں سے ہمارے ملک پر حملے ہو رہے ہیں۔
سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقات عامہ کا بیان درج ذیل ہے:
بِسْمِ اللهِ الْقَاصِمِ الْجَبَّارِينَ
﴿وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةࣱ﴾
اردن کے معزز اور شریف عوام!
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں آپ کے مجاہد بھائیوں نے طفل کُش امریکی فوج کو جرم کی سزا دیتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین پر بار بار ہونے والی جارحیت کے جواب میں، امریکی اڈوں پر برق رفتار حملوں سے ایک تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کا ریڈار تباہ کر دیا۔
اسی طرح ایک پیٹریاٹ سسٹم اور ایک C-RAM ریڈار بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا اور اس امریکی اڈے کے ایندھن کے ٹینکوں کو آگ لگا دی گئی۔
نیز ہیلی کاپٹروں کے سازوسامان کا ایک بڑا گودام اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا ایک ہینگر تباہ کرکے جلا دیا گیا۔
بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں سے ممالک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ یہ تصور بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کی ریاستی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری مکمل طور پر قابل احترام ہے۔
اس بات پر غور کریں کہ دوسرے ممالک میں امریکی اڈا کیسی جگہ ہے؟، ایک ایسی جگہ جہاں آپ کی بارڈر کنٹرول کے بغیر امریکی اور جو چاہیں، بعض اوقات دوسرے ممالک کے قیدیوں کو لائے اور لے جائیں، وہاں امریکی فوج کی ملٹری پولیس نظم و ضبط قائم کرتی ہے نہ کہ آپ کی فوج کی، وہاں ہونے والے جرائم پر امریکی جج فیصلہ کرتا ہے نہ کہ آپ کا جج، وہاں امریکی قانون نافذ ہے نہ کہ آپ کا قانون، نہ صرف آپ کے فوجی بلکہ آپ کے وزیر دفاع کو بھی امریکی پولیس کی اجازت کے بغیر وہاں داخلے کا حق نہیں۔
پس یہ امریکہ ہے جس نے آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے نہ کہ ہم نے۔ ہم ان زمینوں پر حملہ کر رہے ہیں جن پر امریکی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ایسی فوج جو جرم کے سوا کچھ نہیں جانتی۔
گذشتہ روز، میناب کے سوگوار عوام نے طفل کُش امریکی فوج کی جارحیت میں اپنے ننھے طلباء و طالبات کی لاشوں کے باقی ماندہ ٹکڑے کی تشییع کی جو ملبے تلے تلاش کے دوران برآمد ہوئے تھے، اور ان ٹکڑوں کو ان شہداء کی قبروں میں سپرد خاک کر دیا۔ وہ پرائمری اسکولوں کے 168 طلباء اور طالبات ہیں جنہیں جنگ کے پہلے دن طفل کُش امریکی فوج نے شہید کر دیا تھا؛ جبکہ جارح امریکی دشمن کے یہ جرائم جاری ہیں اور ان ہی جرائم کے کے ایک حصے کا ارتکاب اردن کی سرزمین پر امریکی اڈوں سے ہو رہا ہے یعنی ان جرائم کے لئے آپ کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے؛ چنانچہ یہ ہمارا قانونی، شرعی اور منطقی حق ہے کہ اپنے ملک پر جارحیت اور ہمارے بچوں کے قتل کا ارتکاب کرنے والوں پر حملہ کریں چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔
ہم آپ کے تعاون کے شکرگزار ہیں۔
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ