وہ جانتا ہے کہ ہمارے درمیان جنگ جاری ہے اور ہمارے پاس اس کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہيں ہے؛ اور پھر ہم میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو دشمن کو اپنے مسلم بھائیوں سے بہتر قرار دیتے ہیں اور قبلہ اول کے دشمنوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر قبلہ اول و موجود کے تحفظ کے سپنے دیکھتے ہیں یا پھر اپنے اقتدار کی خاطرصہیونی دشمن کی مدد سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں! ۔۔۔ اور دشمن کو یہ سب معلوم ہے؛ لیکن کیا یہ مسلم امہ جاگے گی بھی؟ کیا مسلم امہ ابھی تک سمجھ سکی ہے کہ وہ سورہی ہے؟ کیا اسے معلوم ہے کہ اس کے سونے کی وجہ سے دشمن مقدسات کی تمام سرحدیں پھلانگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حریم تک پہنچ چکا ہے؟ کیا اسے معلوم ہے کہ دشمن قبلہ اول کو مسلمانوں کے تاریخ و عقائد سے حذف کرنے کے لئے بالکل تیار ہے؟ کیا ہم ہم آج سے تیس سال بعد اپنے بچوں کو بتا سکیں گے کہ "سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ ۔۔۔" میں "مسجد الاقصی کے معنی کیا ہیں اور یہ کہاں ہے؟آج شہر قدس کو ایسے خطرے کا سامنا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہيں ملتی؛ جب سے بیت المقدس کو برطانیہ نے صہیونیوں سے قبضہ کروادیا ہے بظاہر جو خطرہ آج قبلہ اول کو درپیش تھا وہ کبھی بھی پیش نہیں آیا۔ شہر قدس کو بھی اتنا ہی خطرہ لاحق ہے جتنا کہ مسجد الاقصی کو۔ ان خطرات سے معلوم ہوتا ہے کہ قدس شہر کے مقدسات کے خلاف اور اس شہر کے باشندوں کی آزادیاں پامال کرنے کے حوالے سے صہیونیوں کی جارحیتوں اور تجاوزات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس شہر کو یہودیانے کی سازشیں عروج پر ہیں اور یہ سازشیں نوآبادیوں کے صہیونیوں اور صہیونی ریاست کی حمایت سے ہورہی ہیں۔ صہیونی آنے والے انتخابات کے لئے اپنی کوششوں کو تحریف شدہ صہیونی تورات کی تعلیمات کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے تحت وہ تاریخی اور جغرافیائی حقائق کو توڑ مروڑ اسلامی آثار کو مٹانے، مسجد الاقصی کو منہدم کرنے اور شہر کو یہودی شہر میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صہیونی تورات کے مطابق مسلمانوں اور عیسائیوں کی املاک اور گھر بار اور زمینوں پر قبضہ جائز قرار دیا گیا ہے اور صہیونیوں نے انہيں غصب کررکھا ہے۔ صہیونی سازشیں اور تشہیری مہم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، صہیونیوں کو مسجد الاقصی میں حاضر ہونے کی دعوتیں دی جارہی ہیں تا کہ "سیاہ منصوبے Black Plan" پر عملدرآمد کیا جاسکے۔ منصوبہ مسجدالاقصی یا قبلہ اول کو نشانہ بنانے اور اس کے ویرانے پر صہیونی دعوے کے مطابق "ہیکل سلیمانی" تعمیر کرنے کا ہے۔ علاوہ ازیں مسجدالاقصی میں نمازیوں پر حملوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ جمعہ (5 نومبر2012) کو صہیونی اسپیشل گارڈز نے باب المغاربہ میں مسلمان نمازیوں پر حملہ کیا اور نمازیوں کو مارا پیٹا گیا۔ اور اسرائیلی ریاست اپنے بدنام زمانہ "ہیکل 2020" منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ جس کے تحت قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور شہر میں صہیونی آبادکاروں کے لئے 50 ہزار مکانات تعمیر کرنے کا اعلان ہوگا اور اس کام کے لئے صہیونیوں نے مسلمانوں کے گھروں، املاک اور زمینوں کو ضبط کرنے، مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور کوچ کرانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان منصوبوں کے تحت 2020 میں قدس شہر میں مسلم باشندوں کی ایک چھوٹی اقلیت ہوگی اور اس تاریخی شہر کے اصل باشندے ایک چھوٹی سی اقلیت کے عنوان سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہونگے اور انہیں صرف شہر سے ہجرت کرنے کا اختیار ہوگا۔ حالانکہ یہ تمام صہیونی اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ناجائز ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی فیصلوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور املاک اور زرعی زمینوں کے تحفظ کے سلسلے میں جنیوا کے مفاہمت نامہ نمبر 4 نیز ہیگ موافقت نامے نے ان اقدامات کو سرے سے مسترد کررکھا ہے۔ لہذا صہیونیوں کے ان وحشیانہ اور خطرناک تجاوزات اور بیت المقدس کے مستقبل کو تبدیل کرنے اور اس شہر کو یہودیانے اور اس کے باسیوں کو اذيت و آزار کا نشانہ بنانے اور ان کی املاک پر قبضہ کرنے اور انہیں شہر سے کوچ کروانے اور مسجد الاقصی کو منہدم کرکے اس کے ویرانوں پر موہوم یہودی عبادتگاہ تعمیر کرنے کے سلسلے میں یہودی ریاست کے خطرناک منصوبوں کا تقاضا یہ ہے کہ پورا عالم اسلام یکصدا ہوکر قبلہ اول اور بیت المقدس نیز اس شہر کے مسلم عوام کے تحفظ کے لئے عالیم سطح پر آواز اٹھائیں اور اس شہر اور قبلۂ اول کو صہیونی ریشہ دوانیوں سے نجات دلوائیں اور صرف زبانی جمع خرچ اور مذمتی بیانات پر اکتفا نہ کیا جائے کیونکہ عرب لیگ اور او آئی سی کے ریکارڈروم میں مذمتی بیانات کے فائلوں کی کوئی کمی نہيں ہے، اور عرب اور غیر عرب مسلم ممالک کی وزارت خارجہ کے دفاتر میں ان مذمتی بیانات کی تعداد بہت زيادہ ہوچکی ہے جن کو دیکھ اور پڑھ کر اور صہیونیوں کی لاپرواہی اور مسلسل سازشوں کا تماشا دیکھ کر، انسان کی حالت غیر ہوجاتی ہے لیکن ان سے مسلمانوں کے فرائض ادا ہونا ممکن نہيں ہیں۔جب بھی صہیونی ریاست کوئی تجاوز اور جارحیت کرتی ہے اور اس کی جارحیت مسلمانوں کی طرف سے کسی فیصلہ کن اقدام کا تقاضا کرتی ہے تو عالمی سطح پر صہیونی ریاست کی مذمت کے لئے فضا ہموار ہوجاتی ہے اور امریکی لونڈی "سلامتی کونسل" میں صہیونی ریاست کی مذمت کی قرارداد منظور ہونے لگتی ہے امریکہ اس کو ویٹو کردیتا ہے اور مسلمان بھول جاتے ہیں کہ یہ سب کس لئے تھا اور کیا امریکہ کے ویٹو کے بعد بھی انہيں کـچھ کرنا چاہئے یا نہیں! ہماری آنکھیں او آئي سی پر لگی ہوئی ہیں جس کے وجود کا فلسلفہ ہی قدس شریف اور اس پر صہیونی قبضہ ختم کرنا ہے؛ لیکن اگر اس تنظیم نہ کچھ نہ کیا تو مسلم ممالک اور مسلم امہ کی اور کوئی ذمہ داری نہيں ہے کیا مسلم امہ اپنے حکمرانوں پر دباؤ بڑھا کر او آئي سی کے ذریعے کسی بہتر نتیجے کے لئے کوشش نہیں کرسکتی؟ قدس مدد کے لئے پکار رہا ہے اور مسلمان سن رہے ہیں قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی معراج رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: "سبْحَانَ الَّذِی أَسرَی بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسجِدِ الْحَرَامِ إِلی الْمَسجِدِ الاَقْصا الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَهُ لِنرِیَهُ مِنْ ءَایَتِنَا إِنَّهُ هُوَ السمِیعُ الْبَصِیرُ"۔ ()پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک، ـ جس کے گردا گردہم نے برکتیں کر رکھی ہیں ـ تا کہ ہم ان کو اپنی نشانیوں میں سے کچھ دکھلائیں، بے شک اللہ تعالی بڑا سننے والا‘ بڑا دیکھنے والا ہے- (سورۂ بنی اسرائیل آیت1) اب اگر آج سے دس، بیس یا تیس سال بعد ہم سے ہمارے پوتے نواسے پوچھیں کہ اس آیت میں مسجد اقصی ہے کیا؟ یہ کہاں تھی اور اس کو کیا ہوا؟ یا اگر ہم سے وہ پوچھیں کہ ہمارا قبلہ تو تبدیل ہوا ہے اور ہمارا موجودہ قبلہ در حقیقت دوسرا قبلہ ہے تو ہم کیا کہیں گے کہ ہمارا قبلہ اول ہیکل سلیمانی میں بدل گیا؟ اور اگر وہ پوچھیں کہ "جب قبلہ اول ہیکل سلیمانی میں بدل رہا تھا تو تم کیا کررہے تھے؟ تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟ اس مضمون میں ایرانی اخبار "شرق" (مورخہ20/2/2012) کے اداریئے سے استفادہ کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب صہیونی یہودیوں نے 1969 میں مسجد الاقصی کو آگ لگائی تو اس وقت کی صہیونی وزیر اعظم گولڈامائر کہتی ہے: میں اس رات صبح تک نہ سو سکی کیونکہ میں سوچ رہی تھی کہ عرب سارے مل کر گروہوں اور دستوں کی صورت میں ہر طرف سے اسرائیل میں داخل ہونگے لیکن صبح ہوئی اور کوئی حادثہ رونما نہ ہوا تو میں نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا کہ ہر کام کی استطاعت رکھتے ہیں اور جو چاہیں کرسکتے ہیں "کیونکہ یہ امت سوئی ہوئی ہے"۔

...............
/110