24 جولائی 2026 - 20:43
ایران دنیا کے گاڈفادرز کا کھیل بگاڑ رہا ہے؛ لیکن کیوں اور کیسے؟ - 4

ایران پر مسلسل جارحیتوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب کی "اوزاری عقل"  "ایمانی عقل" کے مقابلے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مغرب کی آلاتی عقل کہتی ہے کہ جس کے پاس زیادہ ہتھیار اور زیادہ پیسہ ہے، وہی کامیاب ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں میدانِ جنگ کی حقیقت (دفاعِ مقدس سے لے کر محور مقاومت [محاذ مزاحمت] محاذ کی فتوحات تک) ایک مختلف بیانیہ تخلیق اور مستحکم کر چکی ہے۔ [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ [---] ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو مادے سے معنیٰ (اور مادیت سے روحانیت) میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ معنوی نگاہ اپنے ساتھ ایک قسم کی اسٹراٹیجک تخلیقیت لاتی ہے۔

چوتھا حصہ:

اس گہرے احترام کا اظہار ایران کی عمومی ثقافت اور عمدہ فنون میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ معاصر مغربی تہذیب جہاں، "اظہارِ رائے کی آزادی" کے نام پر، پیغمبر خدا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور مسلمانوں کی آسمانی کتاب کی "قرآن کریم" کی توہین میں سبقت لے گئی ہے، وہیں ایران میں دوسرے مذاہب کے پیغمبروں اور مقدسات کی کسی بھی قسم کی توہین کو شدید سماجی مذمت اور سخت قانونی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی سینما اور ٹیلی وژن میں حضرت مریم، حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور حضرت یوسف (علیہم السلام) کو انتہائی عقیدت و احترام اور تقدیس و تمجید کے ساتھ دیکھا جاتا ہے اور اسی احساس کے ساتھ ان کی زندگی کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں اور لازوال فن پارے تخلیق کئے جاتے ہیں؛ ایسی کاوشیں تخلیق ہوتی ہیں جو مغربی تہذیب میں رائج تقدس شکنیوں کے برعکس،  بنی نوع انسان کے درمیان ایمان و توحید کی مشترکہ زبان تلاش کرنے پر زور دیتی ہیں۔ دشمن اس "رنگ برنگ اور یک جہت مرقع" کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ایران کی حقیقت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس سرزمین میں مذہب کا فرق سلامتی کا مسئلہ یا سماجی دراڑ نہیں، بلکہ "الہی انسان دوستی (Divine Humanitarianism)" کو ثابت کرنے کا ایک تہذیبی موقع و میدان ہے۔ ایرانی تہذیب نے اپنے تاریخی تجربے سے سیکھ لیا ہے کہ حقیقی طاقت دوسرے کو منظر سے ہٹانے اور حذف کرنے میں نہیں، بلکہ تمام ارادوں کو توحید اور محب الوطنی کے پرچم تلے اکٹھا کرنے میں ہے، اور یہی وہ رشتہ ہے جس نے بیرونی سازشوں کو مذہبی اور نسلی فساد پیدا کرنے کی آرزو میں ناکام چھوڑ دیا ہے۔

عمدہ جیو پالیٹکس، زمین کا دل اور "ہارٹ لینڈ" کا خوفناک سپنا

ایران دنیا کے حساس ترین جغرافیائی نقطے پر واقع ہے۔ مشہور برطانوی نظریہ ساز ہالفورڈ میکندر (Halford John Mackinder) کے مشہور نظریئے کے مطابق، جو کوئی "دنیا کے محوری علاقے (Heartland)" (ہارٹ لینڈ) پر قابض ہو، وہ دنیا کا حکمران ہے۔ ایران ٹرانزٹ راہداریوں کے ذریعے مشرق کو مغرب (ایشیا کو یورپ) سے اور شمال کو جنوب سے جوڑنے کا کلیدی خطہ ہے۔ علاوہ ازیں، آبنائے ہرمز ـ جو دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے، ـ پر فطری اور ملکی تسلط ایران کو ایک بے مثال جیو پولیٹیکل طاقت سے لیس کرتا ہے۔ اس نقطے پر ایک "آزاد اور غیر وابستہ" طاقت کی موجودگی  نیٹو اور امریکہ کے تمام سیکیورٹی حساب کتاب، تخمینوں، اندازوں اور فارمولوں کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ وہی غیر وابستہ، خودمختار اور آزاد عالمی طاقت، جس نے مغرب کی جارحیت کے بعد انگڑائی لی ہے اور اب پورا مغرب اپنی پوری طاقت آزما رہی ہے کہ اس ہارٹ لینڈ کو دوبارہ قابو کر لے، لیکن رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ "اس گھڑی کی سوئیاں واپس نہیں پلٹیں گی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha