26 اکتوبر 2013 - 20:30
محمد فوقی: اسلام کے دشمن غدیر عاشورا اور مہدویت سے خوفزدہ ہیں

ایران کے صوبہ مازندران کے مساجد سنٹرزکے انچارج نے کہا ہے کہ اسلام کے دشمن غدیر عاشورا اور مہدویت سے خوفزدہ ہیں لہذا اس دورمیں مساجد سنٹرز کی ایک اہم ذمہ داری ان تین اہم امور کا احیاء کرنا ہے۔

ابنا: صوبہ مازندران کے مساجد سنٹرزکے انچارج محمد فوقی نے کہا کہ عیدغدیراسلام کی عظیم اعیاد میں سے شمارہوتی ہے کہ قرآن کریم میں بھی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ غدیر عاشورا اور مہدویت کی وجہ سے ہی دین اسلام زندہ وباقی ہے اسی بنا پر اسلام کے دشمن غدیر،عاشورا اور مہدویت سے خوفزدہ ہیں لہذا اس دور میں مساجد سنٹرز کی ایک اہم ذمہ داری ان تین اہم مسائل کا احیاء کرنا ہے۔فوقی نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر۳ اور۶۷ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ اور سنی مفسرین کی نظر کے مطابق ان آیات کا شان نزول غدیر اور امیرالمومنین علیہ السلام کی جانشینی اور امامت و ولایت سے مربوط ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۲۳سال اسلام کی ترویج کی اور اپنے بہت سے عزیزوں کی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے امت کے لیے اما م کی تعیین کرنے کی ضرورت تھی اور چونکہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے اورعصمت ایک باطنی امرہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اس سے باخبرنہیں ہے بنابرایں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے اسلامی احکام کی نشرواشاعت کے لیے اس مقام پر منصوب کے گئے۔انہوں نے کہا ہے کہ غدیر فقط مسلمانوں سے مربوط نہیں ہے بلکہ دنیا کے ان تمام حریت پسندوں سے متعلق ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام جیسے عادل امام کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتے ہیں اور عید غدیر ولایت رہبری انسانیت اکمال دین اور اتمام نعمت کی عید ہے اور یہ فقط سادات یاشیعوں کی ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی عید ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح حضرت علی علیہ السلام نے بھی اسلام کے لیے بہت زیادہ زحمتیں برداشت کی ہیں اور پیغمبر کی رحلت کی بعد دشمنوں کی جانب سے آنے والی مشکلات اور مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا یہاں تک کہ اس راہ میں اپنی جان بھی قربان کر دی۔فوقی نے آخر میں کہا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی طرح باقی ائمہ اطہار علیہم السلام نے بھی دین اسلام کی بقاء کے لیے بہت زیادہ زحمتیں برداشت کی ہیں اور انہوں نے اسلام کی ترویج کے لیے مختلف روشوں اور طریقوں سے استفادہ کیا۔

.......

/169